گاؤں کے کنارے ایک پرانی جھونپڑی
گاؤں کے کنارے ایک چھوٹی سی پرانی جھونپڑی تھی، جسے لوگ اکثر چھوڑ دیتے تھے اور اس کے قریب جانے سے ڈرتے تھے۔ لوگ کہتے تھے کہ رات کے وقت وہاں ایک خوفناک چڑیل رہتی ہے جو ہر کسی کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ جھونپڑی بس پرانی اور سنسان تھی اور جو بھی کہانی اس کے بارے میں گاؤں میں گھومتی تھی وہ صرف خوف کے قصے تھے۔ جھونپڑی کے گرد درختوں کی چھاؤں اور پرانے پتوں کی سرسراہٹ اسے مزید پراسرار بناتی تھی۔ بہت کم لوگ وہاں جاتے تھے کیونکہ لوگ ہمیشہ خوف کی کہانیاں سن کر اس سے دور رہتے تھے۔ لیکن حقیقت میں جھونپڑی کے اندر چڑیل اکیلی اور اداس رہتی تھی اور اسے کسی کی ضرورت تھی جو اس کی مدد کرے. چڑیل بوڑھی ضرور تھی لیکن اس کا دل نرم اور مہربان تھا اس نے اپنی زندگی کا زیادہ تر وقت تنہا گزارا تھا کیونکہ لوگ اس سے ڈرتے تھے اور کوئی بھی اس کے قریب نہیں آتا تھا اس کے چھوٹے چھوٹے جادوئی پرندے اور جھونپڑی کے کونے میں چمکتی روشنی اس کی اکیلا پن کم کرنے کی کوشش کرتے تھے لیکن وہ پھر بھی اداس محسوس کرتی تھی ہر شام جب سورج غروب ہوتا تو چڑیل اپنے چھوٹے کمرے میں بیٹھ کر امید کرتی کہ کوئی ایسا دوست آئے جو اسے سمجھے اور اس کے ساتھ وقت گزارے. یہ جھونپڑی ایک ایسا مقام بن گئی تھی جہاں وقت کی رفتار تھم گئی تھی دروازے کے پٹکھے جڑ سے ٹوٹے ہوئے تھے اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ پھوٹ کے شکار تھے لیکن اس کے باوجود چھوٹے چھوٹے جادوئی پودے اور کتابیں جہاں چڑیل نے اپنی زندگی کے تجربات جمع کیے تھے وہ جھونپڑی کو خاص اور جادوئی بناتے تھے یہاں کی ہوا میں خوشبو اور پرندوں کی مدھم آوازیں ہمیشہ موجود رہتی تھیں اور رات کے وقت وہ روشنی کے چھوٹے چھوٹے شعلے جھونپڑی کے اندر روشنی بکھیرتے تھے. چڑیل کے بارے میں لوگوں کے قصے سچ نہیں تھے بلکہ یہ جھونپڑی اس کے اکیلے پن کا عکس تھی جو سب کو خوفناک لگتا تھا لیکن جس کسی نے بھی اس کے قریب قدم رکھا وہ ہمیشہ حیرت میں مبتلا رہ گیا کہ یہاں حقیقت میں خوف کے بجائے محبت اور نرمی چھپی ہوئی تھی
دوستوں کا فیصلہ
ایک دن تین بہادر دوست ریحان سارہ اور علی نے فیصلہ کیا کہ وہ جھونپڑی کے راز جانیں گے انہوں نے سنا تھا کہ رات کے وقت وہاں چڑیل رہتی ہے اور گاؤں والے اس سے ڈرتے ہیں لیکن تینوں کو یقین تھا کہ شاید یہ چڑیل اتنی خوفناک نہیں ہے جتنا لوگ کہتے ہیں انہوں نے اپنے اندر حوصلہ جمع کیا اور رات کے وقت چھوٹے چراغ لے کر جھونپڑی کے پاس پہنچے. جب وہ جھونپڑی کے قریب پہنچے تو ہوا میں ہلکی سردی اور پرندوں کی آوازوں کا امتزاج انہیں تھوڑا حیران کر گیا انہوں نے دیکھا کہ جھونپڑی کے کونے میں نرم روشنی جھلک رہی تھی اور دروازے کے پرانے پٹکھے ہلکے سے کھل رہے تھے تینوں دوست ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے اور آہستہ آہستہ اندر داخل ہوئے اندر پہنچ کر وہ دیکھ سکتے تھے کہ کمرے کے ایک طرف چڑیل بیٹھی تھی اور اس کے چہرے پر تھوڑا اداسی کا اظہار تھا اس نے ہاتھ ہلایا اور مسکرا کر کہا کہ تم لوگ یہاں آ گئے. ریحان سارہ اور علی نے ایک دوسرے کو حوصلہ دیا اور آگے بڑھ کر چڑیل کے قریب بیٹھ گئے وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ حقیقت میں کیسی ہے اور وہ کیوں اکیلی ہے چڑیل نے نرم لہجے میں کہا کہ میں اکیلی ہوں اور میری مدد کرو تو میں تمہیں جھونپڑی کے جادوئی راز دکھاؤں گی یہ بات سن کر تینوں دوستوں نے فوراً فیصلہ کیا کہ وہ چڑیل کی مدد کریں گے
جھونپڑی کی صفائی اور مرمت
دوستوں نے اگلے چند دن جھونپڑی کی صفائی اور مرمت شروع کی انہوں نے پہلے پرانے کمرے کو صاف کیا جہاں دھول اور پرانے کپڑے پڑے ہوئے تھے اس کے بعد ٹوٹے ہوئے دروازے درست کیے اور کھڑکیوں کے شیشے جو ٹوٹے ہوئے تھے انہیں بدل دیا چھوٹے چھوٹے جادوئی پودوں کو نئے جگہ پر رکھا تاکہ وہ زیادہ خوبصورت لگیں اس دوران چڑیل بھی ان کے ساتھ رہتی اور انہیں بتاتی کہ کون سا پودا کس خاص جادو سے بھرا ہوا ہے. یہ کام آسان نہیں تھا لیکن تینوں دوستوں نے حوصلہ اور محنت سے کام کیا وہ ایک دوسرے کی مدد کرتے اور ہر چھوٹے کام پر خوش ہوتے چڑیل بھی بہت خوش ہوئی کیونکہ اس نے محسوس کیا کہ اس کے لئے واقعی دوست آئے ہیں جو اسے سمجھتے ہیں اور اس کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں ایک دن وہ سب جھونپڑی کے بڑے ہال میں جمع ہوئے اور چڑیل نے کہا کہ آج میں تمہیں کچھ خاص دکھاؤں
جادوئی خزانے کی تلاش
چڑیل نے دوستوں کو جھونپڑی کے چھپے ہوئے کمرے دکھائے وہاں پرانے صندوق اور کتابیں رکھی ہوئی تھیں جس میں رنگ برنگے جواہرات چھپے ہوئے تھے چڑیل نے انہیں بتایا کہ یہ جادوئی کتابیں مختلف جادوئی علوم اور تجربات سے بھری ہیں ہر کتاب میں ایک الگ کہانی اور علم چھپا ہوا تھا چھوٹے چھوٹے جادوئی پودے بھی وہاں موجود تھے جو خاص روشنی اور خوشبو بکھیرتے تھے. ریحان سارہ اور علی نے ان جادوئی خزانے کو غور سے دیکھا اور سمجھنے کی کوشش کی کہ یہ سب کیسے کام کرتے ہیں چڑیل نے ہر ایک چیز کی وضاحت کی اور بتایا کہ یہ سب چیزیں محبت اور محنت سے جڑی ہوئی ہیں جو انسان کے دل کو سکون دیتی ہیں تینوں دوست حیرت میں تھے کہ وہ چیزیں جو لوگوں کے خیال میں خوفناک تھیں وہ حقیقت میں جادوئی اور خوبصورت تھیں اس تجربے نے ان کے دلوں میں حوصلہ اور جستجو پیدا کی
چڑیل اور دوستوں کی دوستی
اب چڑیل اور تینوں دوست ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تھے وہ روزانہ جھونپڑی میں ملتے اور ایک دوسرے کے ساتھ وقت گزارتے چڑیل اپنے تجربات اور کہانیاں سناتی اور دوستوں کو جادوئی مشورے دیتی دوست بھی چڑیل کی مدد کرتے اور ہر چھوٹی چیز پر خوش ہوتے اس دوستی نے چڑیل کے دل کی اداسی کو کم کر دیا اور وہ پھر خوش رہنے لگی دوستوں نے سیکھا کہ خوف کے پیچھے اکثر محبت اور نرمی چھپی ہوتی ہے اور کسی کو جاننے سے پہلے صرف سن کر فیصلہ نہیں کرنا چاہیے. چڑیل کے ساتھ وقت گزار کر تینوں دوستوں نے اپنی زندگی میں نیا سبق سیکھا کہ دوسروں کی مدد اور نیکی کے ذریعے حقیقی خوشی حاصل کی جا سکتی ہے اور اصل جادو دل کی ہمت اور دوسروں کے ساتھ تعاون میں چھپا ہوتا ہے
جھونپڑی کے راز اور جادو
چڑیل نے دوستوں کو جھونپڑی کے سب راز دکھائے اور بتایا کہ ہر کتاب، ہر جواہرات اور ہر پودا ایک کہانی کہتا ہے یہ کہانیاں محبت، حوصلہ اور محنت کی مثالیں ہیں جو کسی کے دل کو روشن کر سکتی ہیں چڑیل کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد تینوں دوست سمجھ گئے کہ جھونپڑی کے بارے میں جو خوف پھیلایا گیا تھا وہ صرف غلط فہمی تھی حقیقت میں یہاں سیکھنے اور محبت کرنے کی جگہ تھی. اب جھونپڑی گاؤں کے بچوں اور دوستوں کے لیے بھی ایک دلچسپ اور جادوئی مقام بن گئی تھی جہاں وہ چڑیل کے ساتھ کھیلتے، کہانیاں سنتے اور جادوئی خزانے دیکھتے ہر دن یہاں ایک نیا سبق اور خوشی لے کر آتا تھا چڑیل خوش اور مطمئن تھی کیونکہ اب وہ اکیلی نہیں تھی اور دوستوں نے اسے سیکھایا کہ حقیقی جادو دل کی ہمت، دوسروں کی مدد اور محبت میں چھپا ہوتا ہے
سبق اور اخلاق
اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ خوف کے پیچھے اکثر نیکی اور مدد چھپی ہوتی ہے ہم کسی کے بارے میں صرف سن کر فیصلہ نہ کریں بلکہ خود حقیقت دیکھیں دوسروں کی مدد اور نیکی میں حقیقی خوشی اور جادو چھپا ہوتا ہے
Churail Ki Purani Jhompdi
Gaon ke kinare aik purani jhompdi
Gaon ke kinare aik chhoti si purani jhompdi thi jise log aksar chhod dete thay aur is ke qareeb jane se darte thay Log kehte thay ke raat ke waqt wahan aik khofnaak churail rehti hai jo har kisi ko nuqsan pohcha sakti hai lekin haqeeqat mein yeh jhompdi bas purani aur sunsan thi aur jo bhi kahani is ke bare mein gaon mein ghoomti thi woh sirf khauf ke qissay thay Jhompdi ke gird darakhton ki chhaon aur purane patton ki sarsarahat ise mazeed prasarar banaati thi Bohat kam log wahan jate thay kyunke log hamesha khauf ki kahaniyan sun kar is se door rehte thay lekin haqeeqat mein jhompdi ke andar churail akeli aur udaas rehti thi aur use kisi ki zarurat thi jo is ki madad kare. Churail boodhi zarur thi lekin iska dil narm aur mehrban tha Is ne apni zindagi ka zyada tar waqt tanha guzara tha kyunke log is se darte thay aur koi bhi is ke qareeb nahi aata tha Is ke chhote chhote jadui parinday aur jhompdi ke kone mein chamakti roshni is ke akelay pan ko kam karne ki koshish karte thay lekin woh phir bhi udaas mehsoos karti thi Har sham jab suraj ghuroob hota to churail apne chhote kamre mein baith kar umeed karti ke koi aisa dost aaye jo ise samjhe aur is ke sath waqt guzare. Yeh jhompdi aik aisa maqam ban gayi thi jahan waqt ki raftaar tham gayi thi Darwazon ke patkhe jad se toote hue thay aur khidkiyon ke shishe toot phoot ke shikar thay lekin is ke bawajood chhote chhote jadui poday aur kitaben jahan churail ne apni zindagi ke tajurbaat jama kiye thay woh jhompdi ko khaas aur jadui banate thay Yahan ki hawa mein khushbu aur parindon ki madhum aawazain hamesha mojood rehti thi aur raat ke waqt woh roshni ke chhote chhote sholay jhompdi ke andar roshni bikhirte thay. Churail ke bare mein logon ke qissay sach nahi thay balki yeh jhompdi is ke akelay pan ka aks thi jo sab ko khofnaak lagta tha lekin jis kisi ne bhi is ke qareeb qadam rakha woh hamesha hairat mein mubtala reh gaya ke yahan haqeeqat mein khauf ke bajaye mohabbat aur narmi chhupi hui thi .
Doston ka faisla
Aik din teen bahadur dost Rehan Sarah aur Ali ne faisla kiya ke woh jhompdi ke raaz jaanenge Unhone suna tha ke raat ke waqt wahan churail rehti hai aur gaon wale is se darte hain lekin teenon ko yaqeen tha ke shayad yeh churail itni khofnaak nahi hai jitna log kehte hain Unhone apne andar hosla jama kiya aur raat ke waqt chhote charagh le kar jhompdi ke paas pohanche. Jab woh jhompdi ke qareeb pohanche to hawa mein halki sardi aur parindon ki aawazon ka imtizaj unhein thoda hairan kar gaya Unhone dekha ke jhompdi ke kone mein narm roshni jhalak rahi thi aur darwazon ke purane patkhe halke se khil rahe thay Teenon dost aik doosre ko dekh kar muskuraaye aur aahista aahista andar daakhil huye Andar pohanch kar woh dekh sakte thay ke kamre ke aik taraf churail baithi thi aur is ke chehre par thoda udasi ka izhar tha Is ne haath hilaya aur muskura kar kaha ke tum log yahan aa gaye. Rehan Sarah aur Ali ne aik doosre ko hosla diya aur aage barh kar churail ke qareeb baith gaye Woh jan’na chahte thay ke yeh haqeeqat mein kaisi hai aur woh kyun akeli hai Churail ne narm lehje mein kaha ke main akeli hoon aur meri madad karo to main tumhe jhompdi ke jadui raaz dikhaungi Yeh baat sun kar teenon dost ne foran faisla kiya ke woh churail ki madad karein.
Jhompdi ki safai aur marammat
Doston ne agle chand din jhompdi ki safai aur marammat shuru ki Unhone pehle purane kamre ko saaf kiya jahan dhool aur purane kapde pade hue thay Is ke baad toote hue darwaze durust kiye aur khidkiyon ke shishe jo toote hue thay unhein badal diya Chhote chhote jadui poday ko naye jagah par rakha taake woh zyada khoobsurat lagein Is dauran churail bhi unke sath rehti aur unhein batati ke kaun sa poda kis khas jadoo se bhara hua hai. Yeh kaam aasan nahi tha lekin teenon dost ne hosla aur mehnat se kaam kiya Woh aik doosre ki madad karte aur har chhoti kaam par khush hote Churail bhi bohot khush hui kyunke is ne mehsoos kiya ke is ke liye waqai dost aaye hain jo ise samajhte hain aur is ke sath waqt guzarna chahte hain Aik din woh sab jhompdi ke bare hall mein jamaa hue aur churail ne kaha ke aaj main tumhe kuch khaas dikhaugi
Jadui khazane ki talash
Churail ne doston ko jhompdi ke chhupe hue kamre dikhaye Wahan purane sandook aur kitaben rakhi hui thin jisme rang birange jawaharat chhupe hue thay Churail ne unhein bataya ke yeh jadui kitaben mukhtalif jadui uloome aur tajurbaat se bhari hain Har kitab mein aik alag kahani aur ilm chhupa hua tha Chhote chhote jadui poday bhi wahan mojood thay jo khas roshni aur khushbu bikhirte thay. Rehan Sarah aur Ali ne in jadui khazane ko ghor se dekha aur samajhne ki koshish ki ke yeh sab kaise kaam karte hain Churail ne har aik cheez ki wazahat ki aur bataya ke yeh sab cheezein mohabbat aur mehnat se juri hui hain jo insaan ke dil ko sukoon deti hain Teenon dost hairat mein thay ke woh cheezein jo logon ke khayal mein khofnaak thin woh haqeeqat mein jadui aur khoobsurat thin Is tajurbe ne unke dilon mein hosla aur justuju paida ki
Churail aur doston ki dosti
Ab churail aur teenon dost aik doosre ke qareeb ho gaye they Woh rozana jhompdi mein milte aur aik doosre ke sath waqt guzarte Churail apne tajurbaat aur kahaniyan sunati aur doston ko jadui mashware deti Dost bhi churail ki madad karte aur har chhoti cheez par khush hote Is dosti ne churail ke dil ki udasi ko kam kar diya aur woh phir khush rehne lagi Doston ne seekha ke khauf ke peeche aksar mohabbat aur narmi chhupi hoti hai aur kisi ko jan’ne se pehle sirf sun kar faisla nahi karna chahiye. Churail ke sath waqt guzarke teenon dost ne apni zindagi mein naya sabaq seekha ke doosron ki madad aur neiki ke zariye haqeeqi khushi hasil ki ja sakti hai aur asal jadoo dil ki himmat aur doosron ke sath taawun mein chhupa hota hai
Jhompdi ke raaz aur jadoo
Churail ne doston ko jhompdi ke sab raaz dikhaye aur bataya ke har kitab har jawaharat aur har poda aik kahani kehta hai Yeh kahaniyan mohabbat hosla aur mehnat ki misaalein hain jo kisi ke dil ko roshan kar sakti hain Churail ke sath waqt guzarnay ke baad teenon dost samajh gaye ke jhompdi ke bare mein jo khauf phailaya gaya tha woh sirf ghalat fehmi thi Haqeeqat mein yahan seekhne.


