سنسان جنگل کا آغاز
شہر کے کنارے ایک گھنا اور خاموش جنگل تھا جہاں دن کے وقت بھی لوگ اکیلے جانے سے ڈرتے تھے اس جنگل کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں قدم رکھنے والا شخص اپنے دل کی دھڑکن تیز محسوس کرتا ہے درخت اتنے گھنے تھے کہ سورج کی روشنی مشکل سے زمین تک پہنچتی تھی ہوا میں نمی اور ٹھنڈک تھی اور ہر طرف ایک انجانا خوف پھیلا رہتا تھا گاؤں کے بزرگ کہتے تھے کہ یہ جنگل عام نہیں بلکہ کسی پرانے راز کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے بچے شام ہوتے ہی اس راستے سے دور رہتے اور بڑے لوگ بھی اس کا ذکر آہستہ آواز میں کرتے تھے رات کے وقت یہاں ایک پراسرار روشنی نظر آتی تھی جو درختوں کے درمیان چلتی پھرتی تھی لوگ کہتے تھے جو بھی اس روشنی کے پیچھے گیا وہ کبھی واپس نہ آیا یہ باتیں سن کر کچھ لوگ ہنستے تھے مگر دل ہی دل میں ڈرتے بھی تھے اس جنگل کی خاموشی عام خاموشی نہیں تھی یہ ایسی خاموشی تھی جو انسان کے اندر اتر جاتی تھی اور اسے اپنے خوف کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یہی جنگل اس کہانی کی شروعات تھا جہاں ہر راستہ ایک راز کی طرف جاتا تھا اور ہر سایہ ایک سوال بن کر کھڑا ہو جاتا تھا
ایڈونچر کا فیصلہ
احمد اور اس کے تین دوست نوجوان تھے اور ایڈونچر کے شوقین تھے وہ اکثر نئی جگہوں پر جانے اور پرانے قصے سننے میں دلچسپی رکھتے تھے جب انہوں نے اس جنگل اور روشنی کی کہانی سنی تو ان کے دل میں تجسس پیدا ہوا انہوں نے سوچا کہ شاید یہ سب لوگوں کا وہم ہو اور حقیقت کچھ اور ہو ایک چاندنی رات کو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگل جائیں گے اور اس روشنی کا راز خود دیکھیں گے احمد نے سب کو ہمت دلائی اور کہا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں وہ صرف دیکھنے جا رہے ہیں دل میں خوف ہونے کے باوجود سب تیار ہو گئے ان کے قدم جیسے جیسے جنگل کے قریب بڑھے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی ٹھنڈی ہوا نے ان کے جسم کو چھوا اور درختوں کی سرسراہٹ نے ماحول کو اور پراسرار بنا دیا پرندوں کی آوازیں غائب تھیں اور ہر طرف خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں بھی ایک عجیب سی آواز محسوس ہو رہی تھی جیسے جنگل خود ان کا انتظار کر رہا ہو ان دوستوں کے چہروں پر جوش اور خوف دونوں کے آثار تھے مگر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں تھا
جنگل کا گہرا سناٹا
جنگل کے اندر داخل ہوتے ہی راستہ تنگ اور اندھیرا ہو گیا درختوں کی شاخیں اوپر مل کر چھت بناتی محسوس ہو رہی تھیں زمین نرم تھی اور قدموں کی آواز بھی دب جاتی تھی ہر قدم کے ساتھ سناٹا گہرا ہوتا گیا احمد کو ایسا لگا جیسے کوئی انہیں دیکھ رہا ہو مگر پیچھے مڑ کر دیکھنے پر صرف سایے نظر آتے تھے ہوا کبھی تیز چلتی اور کبھی بالکل رک جاتی جس سے دل میں بے چینی بڑھتی گئی دوستوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا تاکہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے ان کے ذہن میں گاؤں والوں کی باتیں گونج رہی تھیں مگر وہ خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اچانک انہیں محسوس ہوا کہ جنگل کا راستہ بدل رہا ہے جو درخت پہلے دیکھے تھے وہی دوبارہ سامنے آ رہے تھے جیسے وہ ایک ہی جگہ گھوم رہے ہوں خوف اب ان کے چہروں پر صاف نظر آ رہا تھا مگر احمد نے سب کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا
پراسرار روشنی کا ظہور
کچھ دیر بعد درختوں کے درمیان ایک سفید روشنی نمودار ہوئی وہ روشنی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی اور کبھی مدھم تو کبھی تیز ہو جاتی تھی احمد نے آہستہ آواز میں سب کو متوجہ کیا اور کہا کہ یہی وہ روشنی ہے جس کا ذکر کیا جاتا ہے روشنی میں ایک عجیب کشش تھی جو قدموں کو خود بخود اس کی طرف لے جا رہی تھی جیسے جیسے وہ قریب ہوئے زمین اور نرم ہوتی گئی اور ان کے قدم دھنسنے لگے انہوں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر راستہ پہچانا ہوا نہ رہا ہر طرف ایک جیسے درخت اور سائے تھے روشنی کے قریب پہنچ کر انہیں ایک قدیم پتھر کا مینار نظر آیا جس پر عجیب نشان بنے ہوئے تھے وہ نشان کسی پرانے زمانے کی کہانی سنا رہے تھے دل میں خوف کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی
مخلوق کا سامنا
اچانک وہ روشنی ایک شفاف مخلوق میں بدل گئی اس کی شکل انسانی تھی مگر آنکھیں سرخ اور جسم دھندلا سا تھا اس کی موجودگی سے ہوا بھاری ہو گئی اور درختوں کی شاخیں ہلنے لگیں مخلوق نے احمد کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ تم میرے جنگل میں آئے ہو اب واپس نہیں جا سکتے یہ الفاظ سن کر دوستوں کے جسم کانپنے لگے احمد نے ہمت کر کے کہا کہ وہ صرف حقیقت جاننا چاہتے تھے مخلوق کی ہنسی جنگل میں گونجنے لگی اور دھند چاروں طرف پھیل گئی انہیں لگا جیسے زمین ان کے قدموں سے کھسک رہی ہو اور وقت رک گیا ہو
گمشدگی کا راز
دھند کے بیچ وہ گھومتے گھومتے ایک پرانی درختی کھڑکی تک پہنچے اچانک اس کھڑکی سے تیز روشنی نکلی اور سب کچھ سفید ہو گیا جب ہوش آیا تو وہ ایک روشن پلیٹ فارم پر کھڑے تھے مگر اگلے ہی لمحے سب کچھ غائب ہو گیا صبح جب گاؤں والے جنگل کے کنارے پہنچے تو نہ احمد تھا نہ اس کے دوست اور نہ ہی قدموں کے نشان جنگل ویسا ہی خاموش تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ وہ روشنی ایک بدروح ہے جو تجسس کرنے والوں کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے
سبق اور انجام
یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر راز کو جاننے کی کوشش ضروری نہیں ہوتی کچھ جگہیں اور باتیں انسان کی ہمت سے بڑی ہوتی ہیں بے جا تجسس اور خطرے کی طرف قدم بڑھانا کبھی کبھی ہمیشہ کے لیے گم کر دیتا ہے عقل اور احتیاط ہمیشہ ضروری ہے
Sunsaan Jangal ka Aaghaz
Shehar ke kinaray aik ghana aur khamosh jangal tha jahan din ke waqt bhi log akelay janay se dartay thay is jangal ke baray mein mashhoor tha ke yahan qadam rakhnay wala shakhs apnay dil ki dharkan tez mehsoos karta tha darakht itnay ghany thay ke sooraj ki roshni mushkil se zameen tak pohanchti thi hawa mein nami aur thandak thi aur har taraf aik anjana khauf phaila rehta tha gaon ke buzurg kehtay thay ke yeh jangal aam nahi balkay kisi puranay raaz ko apnay andar chhupaye hue hai bachay shaam hotay hi is rastay se door rehtay aur baray log bhi iska zikar ahista awaaz mein kartay thay raat ke waqt yahan aik purasrar roshni nazar aati thi jo darakhton ke darmiyan chalti phirti thi log kehtay thay jo bhi is roshni ke peechay gaya woh kabhi wapas nahi aaya yeh baatein sunkar kuch log hanstay thay magar dil hi dil mein dartay bhi thay is jangal ki khamoshi aam khamoshi nahi thi yeh aisi khamoshi thi jo insaan ke andar utar jati thi aur usay apnay khauf ka samna karne par majboor kar deti thi
Adventure ka Faisla
Ahmed aur us ke teen dost jawan thay aur adventure ke shoqeen thay woh aksar nai jaghon par janay aur puranay qissay sunnay mein dilchaspi rakhtay thay jab unhon ne is jangal aur roshni ki kahani suni to un ke dil mein tajassus paida hua unhon ne socha ke shayad yeh sab logon ka waham ho aik chandni raat ko unhon ne faisla kiya ke woh jangal jaen gay aur is roshni ka raaz khud dekhen gay dil mein khauf ke bawajood sab tayyar ho gaye un ke qadam jaisay jaisay jangal ke qareeb barhay dil ki dharkan tez hoti gayi
Jangal ka Gehra Sannata
Jangal ke andar daakhil hotay hi rasta tang aur andhera ho gaya har qadam ke sath sannata gehra hota gaya unhein mehsoos hua ke jangal khud un ka intezar kar raha hai
Pur Asrar Roshni ka Zahoor
Kuch dair baad darakhton ke darmiyan aik safed roshni nazar aayi jo dheere dheere aagay barh rahi thi zameen narm hoti gayi aur qadam dhansnay lagay
Makhlooq ka Samna
Roshni achanak aik shaffaf makhlooq mein badal gayi jis ki aankhain surkh theen us ki awaaz ne jangal ko hila diya
Gumshudgi ka Raaz
Dhund ke darmiyan sab kuch ghoom gaya aur subah sirf khamosh jangal baqi reh gaya
Sabaq aur Anjaam
Yeh kahani humein sikhati hai ke har raaz ko jaan lena zaroori nahi aur bina soche samjhe khatra uthana insaan ko hamesha ke liye gum kar sakta hai


