سنسان جنگل کا راز

Zaman Shahid Bajwa
Zaman Shahid Bajwa - Story Writer
11 Min Read

سنسان جنگل کا آغاز

شہر کے کنارے ایک گھنا اور خاموش جنگل تھا جہاں دن کے وقت بھی لوگ اکیلے جانے سے ڈرتے تھے اس جنگل کے بارے میں مشہور تھا کہ یہاں قدم رکھنے والا شخص اپنے دل کی دھڑکن تیز محسوس کرتا ہے درخت اتنے گھنے تھے کہ سورج کی روشنی مشکل سے زمین تک پہنچتی تھی ہوا میں نمی اور ٹھنڈک تھی اور ہر طرف ایک انجانا خوف پھیلا رہتا تھا گاؤں کے بزرگ کہتے تھے کہ یہ جنگل عام نہیں بلکہ کسی پرانے راز کو اپنے اندر چھپائے ہوئے ہے بچے شام ہوتے ہی اس راستے سے دور رہتے اور بڑے لوگ بھی اس کا ذکر آہستہ آواز میں کرتے تھے رات کے وقت یہاں ایک پراسرار روشنی نظر آتی تھی جو درختوں کے درمیان چلتی پھرتی تھی لوگ کہتے تھے جو بھی اس روشنی کے پیچھے گیا وہ کبھی واپس نہ آیا یہ باتیں سن کر کچھ لوگ ہنستے تھے مگر دل ہی دل میں ڈرتے بھی تھے اس جنگل کی خاموشی عام خاموشی نہیں تھی یہ ایسی خاموشی تھی جو انسان کے اندر اتر جاتی تھی اور اسے اپنے خوف کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیتی تھی یہی جنگل اس کہانی کی شروعات تھا جہاں ہر راستہ ایک راز کی طرف جاتا تھا اور ہر سایہ ایک سوال بن کر کھڑا ہو جاتا تھا

ایڈونچر کا فیصلہ

احمد اور اس کے تین دوست نوجوان تھے اور ایڈونچر کے شوقین تھے وہ اکثر نئی جگہوں پر جانے اور پرانے قصے سننے میں دلچسپی رکھتے تھے جب انہوں نے اس جنگل اور روشنی کی کہانی سنی تو ان کے دل میں تجسس پیدا ہوا انہوں نے سوچا کہ شاید یہ سب لوگوں کا وہم ہو اور حقیقت کچھ اور ہو ایک چاندنی رات کو انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ جنگل جائیں گے اور اس روشنی کا راز خود دیکھیں گے احمد نے سب کو ہمت دلائی اور کہا کہ ڈرنے کی کوئی بات نہیں وہ صرف دیکھنے جا رہے ہیں دل میں خوف ہونے کے باوجود سب تیار ہو گئے ان کے قدم جیسے جیسے جنگل کے قریب بڑھے دل کی دھڑکن تیز ہوتی گئی ٹھنڈی ہوا نے ان کے جسم کو چھوا اور درختوں کی سرسراہٹ نے ماحول کو اور پراسرار بنا دیا پرندوں کی آوازیں غائب تھیں اور ہر طرف خاموشی تھی مگر اس خاموشی میں بھی ایک عجیب سی آواز محسوس ہو رہی تھی جیسے جنگل خود ان کا انتظار کر رہا ہو ان دوستوں کے چہروں پر جوش اور خوف دونوں کے آثار تھے مگر پیچھے ہٹنے کا سوال ہی نہیں تھا

جنگل کا گہرا سناٹا

جنگل کے اندر داخل ہوتے ہی راستہ تنگ اور اندھیرا ہو گیا درختوں کی شاخیں اوپر مل کر چھت بناتی محسوس ہو رہی تھیں زمین نرم تھی اور قدموں کی آواز بھی دب جاتی تھی ہر قدم کے ساتھ سناٹا گہرا ہوتا گیا احمد کو ایسا لگا جیسے کوئی انہیں دیکھ رہا ہو مگر پیچھے مڑ کر دیکھنے پر صرف سایے نظر آتے تھے ہوا کبھی تیز چلتی اور کبھی بالکل رک جاتی جس سے دل میں بے چینی بڑھتی گئی دوستوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ رکھا تھا تاکہ کوئی پیچھے نہ رہ جائے ان کے ذہن میں گاؤں والوں کی باتیں گونج رہی تھیں مگر وہ خود کو مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہے تھے اچانک انہیں محسوس ہوا کہ جنگل کا راستہ بدل رہا ہے جو درخت پہلے دیکھے تھے وہی دوبارہ سامنے آ رہے تھے جیسے وہ ایک ہی جگہ گھوم رہے ہوں خوف اب ان کے چہروں پر صاف نظر آ رہا تھا مگر احمد نے سب کو آگے بڑھنے کا اشارہ کیا

پراسرار روشنی کا ظہور

کچھ دیر بعد درختوں کے درمیان ایک سفید روشنی نمودار ہوئی وہ روشنی دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہی تھی اور کبھی مدھم تو کبھی تیز ہو جاتی تھی احمد نے آہستہ آواز میں سب کو متوجہ کیا اور کہا کہ یہی وہ روشنی ہے جس کا ذکر کیا جاتا ہے روشنی میں ایک عجیب کشش تھی جو قدموں کو خود بخود اس کی طرف لے جا رہی تھی جیسے جیسے وہ قریب ہوئے زمین اور نرم ہوتی گئی اور ان کے قدم دھنسنے لگے انہوں نے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی مگر راستہ پہچانا ہوا نہ رہا ہر طرف ایک جیسے درخت اور سائے تھے روشنی کے قریب پہنچ کر انہیں ایک قدیم پتھر کا مینار نظر آیا جس پر عجیب نشان بنے ہوئے تھے وہ نشان کسی پرانے زمانے کی کہانی سنا رہے تھے دل میں خوف کے ساتھ ساتھ حیرت بھی تھی

مخلوق کا سامنا

اچانک وہ روشنی ایک شفاف مخلوق میں بدل گئی اس کی شکل انسانی تھی مگر آنکھیں سرخ اور جسم دھندلا سا تھا اس کی موجودگی سے ہوا بھاری ہو گئی اور درختوں کی شاخیں ہلنے لگیں مخلوق نے احمد کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ تم میرے جنگل میں آئے ہو اب واپس نہیں جا سکتے یہ الفاظ سن کر دوستوں کے جسم کانپنے لگے احمد نے ہمت کر کے کہا کہ وہ صرف حقیقت جاننا چاہتے تھے مخلوق کی ہنسی جنگل میں گونجنے لگی اور دھند چاروں طرف پھیل گئی انہیں لگا جیسے زمین ان کے قدموں سے کھسک رہی ہو اور وقت رک گیا ہو

گمشدگی کا راز

دھند کے بیچ وہ گھومتے گھومتے ایک پرانی درختی کھڑکی تک پہنچے اچانک اس کھڑکی سے تیز روشنی نکلی اور سب کچھ سفید ہو گیا جب ہوش آیا تو وہ ایک روشن پلیٹ فارم پر کھڑے تھے مگر اگلے ہی لمحے سب کچھ غائب ہو گیا صبح جب گاؤں والے جنگل کے کنارے پہنچے تو نہ احمد تھا نہ اس کے دوست اور نہ ہی قدموں کے نشان جنگل ویسا ہی خاموش تھا جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو لوگ آج بھی کہتے ہیں کہ وہ روشنی ایک بدروح ہے جو تجسس کرنے والوں کو اپنے ساتھ لے جاتی ہے

سبق اور انجام

یہ کہانی ہمیں سکھاتی ہے کہ ہر راز کو جاننے کی کوشش ضروری نہیں ہوتی کچھ جگہیں اور باتیں انسان کی ہمت سے بڑی ہوتی ہیں بے جا تجسس اور خطرے کی طرف قدم بڑھانا کبھی کبھی ہمیشہ کے لیے گم کر دیتا ہے عقل اور احتیاط ہمیشہ ضروری ہے


Sunsaan Jangal ka Aaghaz

Shehar ke kinaray aik ghana aur khamosh jangal tha jahan din ke waqt bhi log akelay janay se dartay thay is jangal ke baray mein mashhoor tha ke yahan qadam rakhnay wala shakhs apnay dil ki dharkan tez mehsoos karta tha darakht itnay ghany thay ke sooraj ki roshni mushkil se zameen tak pohanchti thi hawa mein nami aur thandak thi aur har taraf aik anjana khauf phaila rehta tha gaon ke buzurg kehtay thay ke yeh jangal aam nahi balkay kisi puranay raaz ko apnay andar chhupaye hue hai bachay shaam hotay hi is rastay se door rehtay aur baray log bhi iska zikar ahista awaaz mein kartay thay raat ke waqt yahan aik purasrar roshni nazar aati thi jo darakhton ke darmiyan chalti phirti thi log kehtay thay jo bhi is roshni ke peechay gaya woh kabhi wapas nahi aaya yeh baatein sunkar kuch log hanstay thay magar dil hi dil mein dartay bhi thay is jangal ki khamoshi aam khamoshi nahi thi yeh aisi khamoshi thi jo insaan ke andar utar jati thi aur usay apnay khauf ka samna karne par majboor kar deti thi

Adventure ka Faisla

Ahmed aur us ke teen dost jawan thay aur adventure ke shoqeen thay woh aksar nai jaghon par janay aur puranay qissay sunnay mein dilchaspi rakhtay thay jab unhon ne is jangal aur roshni ki kahani suni to un ke dil mein tajassus paida hua unhon ne socha ke shayad yeh sab logon ka waham ho aik chandni raat ko unhon ne faisla kiya ke woh jangal jaen gay aur is roshni ka raaz khud dekhen gay dil mein khauf ke bawajood sab tayyar ho gaye un ke qadam jaisay jaisay jangal ke qareeb barhay dil ki dharkan tez hoti gayi

Jangal ka Gehra Sannata

Jangal ke andar daakhil hotay hi rasta tang aur andhera ho gaya har qadam ke sath sannata gehra hota gaya unhein mehsoos hua ke jangal khud un ka intezar kar raha hai

Pur Asrar Roshni ka Zahoor

Kuch dair baad darakhton ke darmiyan aik safed roshni nazar aayi jo dheere dheere aagay barh rahi thi zameen narm hoti gayi aur qadam dhansnay lagay

Makhlooq ka Samna

Roshni achanak aik shaffaf makhlooq mein badal gayi jis ki aankhain surkh theen us ki awaaz ne jangal ko hila diya

Gumshudgi ka Raaz

Dhund ke darmiyan sab kuch ghoom gaya aur subah sirf khamosh jangal baqi reh gaya

Sabaq aur Anjaam

Yeh kahani humein sikhati hai ke har raaz ko jaan lena zaroori nahi aur bina soche samjhe khatra uthana insaan ko hamesha ke liye gum kar sakta hai

Share This Article
Story Writer
Follow:
Explore kids’ stories written by Zaman Shahid Bajwa at UrduKahani.org. Read unique, moral, and entertaining tales for children that inspire learning and imagination.