احمد کی سادہ دنیا
احمد ایک چھوٹے سے شہر میں رہنے والا ایک سادہ اور خاموش لڑکا تھا جس کی زندگی میں بڑے خواب تھے مگر زبان اور ماحول کی کمی اس کے راستے میں اکثر دیوار بن جاتی تھی وہ بچپن سے ہی محنتی تھا اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے والا تھا مگر اپنے دل کی بات کہنے میں ہمیشہ جھجک محسوس کرتا تھا اس کے والدین نے اسے سکھایا تھا کہ زندگی میں کامیابی شور مچانے سے نہیں بلکہ صبر اور مستقل مزاجی سے ملتی ہے احمد انہی باتوں کو دل میں بسا کر آگے بڑھ رہا تھا اس کے لیے لاہور کا نام ایک خواب جیسا تھا ایک بڑا شہر جہاں ہر چیز تیز تھی لوگ تیز بولتے تھے تیز سوچتے تھے اور تیز فیصلے کرتے تھے جب اسے لاہور کی یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو اس کی خوشی کے ساتھ خوف بھی بڑھ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہاں صرف محنت کافی نہیں ہوگی بلکہ خود اعتمادی بھی ضروری ہوگی احمد اپنے شہر سے رخصت ہوتے وقت یہ وعدہ کر چکا تھا کہ وہ خود کو کمزور نہیں سمجھے گا چاہے حالات جیسے بھی ہوں وہ ہار نہیں مانے گا وہ جانتا تھا کہ یہ سفر آسان نہیں مگر یہی سفر اس کی اصل پہچان بننے والا تھا
لاہور اور نئی زندگی
لاہور احمد کے لیے ایک بالکل نئی دنیا تھا جہاں ہر طرف شور روشنی اور مصروفیت تھی یونیورسٹی کا ماحول اس کے تصور سے بھی بڑا تھا کلاس روم طلبہ اور اساتذہ سب کچھ مختلف لگ رہا تھا احمد شروع میں خود کو اجنبی محسوس کرتا تھا کیونکہ اس کی انگلش کمزور تھی اور اکثر بات کرتے ہوئے وہ رک جاتا تھا مگر وہ سب کچھ خاموشی سے سیکھ رہا تھا وہ جانتا تھا کہ وقت کے ساتھ وہ بھی بہتر ہو جائے گا وہ روز خود سے وعدہ کرتا تھا کہ وہ ہار نہیں مانے گا اور آہستہ آہستہ اس نے لوگوں کو observe کرنا شروع کیا ان کی باتوں کو سمجھنا شروع کیا اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرنے لگا اس شہر نے اسے ڈرایا بھی اور مضبوط بھی بنایا کیونکہ یہاں رہ کر ہی اسے سمجھ آیا کہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لیے خود پر یقین رکھنا کتنا ضروری ہے
سارہ کی پہلی جھلک
پہلی کلاس میں احمد کی نظر سارہ پر پڑی تو وہ لمحہ اس کے دل میں ہمیشہ کے لیے نقش ہو گیا سارہ پراعتماد تھی اس کی باتوں میں ٹھہراؤ تھا اور اس کے انداز میں ایک عجیب سی خود داری تھی وہ کسی سے متاثر ہونے کے لیے جلدی تیار نہیں ہوتی تھی احمد کو اس کی یہی بات سب سے زیادہ پسند آئی وہ اس کی خوبصورتی سے زیادہ اس کی شخصیت سے متاثر ہوا احمد نے پہلی بار کسی کے لیے دل میں خاموش سی محبت محسوس کی مگر وہ جانتا تھا کہ وہ اپنی زبان اور اعتماد کی کمی کی وجہ سے کچھ کہہ نہیں سکتا تھا وہ بس دور سے اسے دیکھتا اور خود کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا رہا
آدھی محبت کا وعدہ
وقت کے ساتھ احمد اور سارہ کی بات چیت شروع ہوئی چھوٹی چھوٹی باتیں جو آہستہ آہستہ گہری ہوتی گئیں احمد نے دل ہی دل میں سارہ کو چاہنا شروع کر دیا مگر جب اس نے اپنے جذبات کا اشارہ دیا تو سارہ نے صاف لفظوں میں کہہ دیا کہ وہ صرف دوستی تک محدود رہنا چاہتی ہے وہ مکمل تعلق کے لیے تیار نہیں تھی احمد کا دل ٹوٹا مگر اس نے اس بات کو قبول کیا کیونکہ وہ سارہ کو کھونا نہیں چاہتا تھا اسی لمحے ان کی محبت آدھی رہ گئی دل میں جذبات تھے مگر نام صرف دوستی کا تھا احمد نے خود کو سمجھایا کہ شاید یہی محبت ہے جو خاموش رہ کر بھی زندہ رہتی ہے
فاصلہ اور صبر
کچھ عرصے بعد سارہ کو بیرون ملک تعلیم کے لیے جانا پڑا یہ خبر احمد کے لیے بہت بھاری تھی مگر اس نے سارہ کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کی اس نے اسے حوصلہ دیا اور خود اندر ہی اندر ٹوٹتا رہا اس کے لیے یہ وقت سب سے مشکل تھا مگر اسی وقت اس نے خود کو سنبھالا اور اپنی پڑھائی پر پوری توجہ دی اس نے انگلش بہتر کرنا شروع کی مقابلوں میں حصہ لیا اور اپنی شخصیت کو نکھارا وہ جانتا تھا کہ اگر قسمت نے دوبارہ موقع دیا تو وہ کمزور نہیں ہوگا
وقت کا بدلتا رنگ
سال گزرتے گئے احمد اب پہلے جیسا نہیں رہا تھا وہ ایک پراعتماد نوجوان بن چکا تھا جو اپنی بات کہنا جانتا تھا اس نے کامیابیاں حاصل کیں اور خود کو ثابت کیا دوسری طرف سارہ بھی بدل چکی تھی دوری نے اسے یہ احساس دلایا کہ احمد اس کی زندگی کا اہم حصہ تھا وہ سمجھ گئی تھی کہ اس نے محبت کو پہچاننے میں دیر کر دی تھی مگر وہ دل ہی دل میں احمد کو یاد کرتی رہی
مکمل محبت
جب سارہ واپس آئی تو احمد سے دوبارہ ملاقات ایک خاص لمحہ تھا دونوں بدل چکے تھے مگر جذبات وہی تھے سارہ نے سچ بول دیا اور احمد نے بھی اپنے دل کی بات کہہ دی اس بار کوئی آدھی محبت نہیں تھی بلکہ مکمل یقین اور اعتماد تھا دونوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اب ایک دوسرے کا ساتھ نہیں چھوڑیں گے کیونکہ وہ جان چکے تھے کہ سچی محبت وقت اور صبر کا امتحان لے کر ہی مکمل ہوتی ہے
سبق
سچی محبت صبر محنت اور خلوص مانگتی ہے جو لوگ انتظار کرنا جانتے ہیں وہی آخرکار مکمل محبت پاتے ہیں
Ahmed ki Saadi Duniya
Ahmed aik chhotay shehar ka rehne wala aik saada aur khamosh larka tha jiske dil mein baray khawab thay magar zaban aur mahaul ki kami aksar uske raaste mein rukawat ban jaati thi wo bachpan se mehnati tha aur doosron ke jazbaat samajhne wala tha magar apni baat kehne mein hamesha jhijhak mehsoos karta tha uske walidain ne use sikhaya tha ke zindagi mein kamyabi shor se nahi sabr aur mehnat se milti hai Ahmed inhi baaton ko dil mein basa kar aagay barh raha tha
Lahore aur Nayi Zindagi
Lahore Ahmed ke liye aik nayi duniya tha jahan har cheez tez thi log tez sochtay thay tez boltay thay aur tez faislay kartay thay university ka mahaul uske liye mushkil tha magar wo chup chaap seekhta raha aur khud ko behtar banata raha
Sara ki Pehli Jhalak
Pehli class mein jab Ahmed ne Sara ko dekha to wo lamha uske dil mein bas gaya Sara pur aitmaad thi aur uski baaton mein gehraai thi Ahmed uski khoobsurti se zyada uski soch se mutasir hua
Aadhi Mohabbat
Jab Ahmed ne apne jazbaat ka izhaar kiya to Sara ne sirf dosti ki baat ki Ahmed ka dil toota magar usne chup chaap sabr kiya aur us aadhi mohabbat ko qabool kar liya
Faansla aur Sabr
Sara ke mulk se bahar janay ke baad Ahmed ne khud ko mazboot banaya aur apni zindagi ko behtar kiya usne mehnat ki aur waqt ke saath badalta chala gaya
Waqt ka Badalta Rang
Saalo baad Ahmed aik kamyaab aur pur aitmaad insaan ban chuka tha jabke Sara ko bhi apni ghalti ka ehsaas ho chuka tha
Mukammal Mohabbat
Dobara mil kar dono ne apne jazbaat qabool kiye aur is dafa koi adhoora rishta nahi tha balkay mukammal mohabbat thi
Lesson
Sachi mohabbat waqt aur sabr ka imtehaan leti hai magar aakhirkaar jeet jaati haiai.


