جھیل کا خوفناک تعارف
گھنے جنگل کے بیچ ایک پرانی جھیل موجود تھی جسے لوگ اندھیری جھیل کے نام سے جانتے تھے یہ جھیل دن کے وقتپہلا حصہ ویران بنگلے کی پہچان شہر کے ایک خاموش کونے میں ایک پرانا بنگلہ کھڑا تھا یہ بنگلہ باقی گھروں سے بالکل الگ تھا اس کی دیواروں پر نمی اور وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے دروازے زنگ آلود تھے اور لکڑی اتنی پرانی ہو چکی تھی کہ ہاتھ لگاتے ہی چرچرانے لگتی تھی کھڑکیاں ہمیشہ بند رہتی تھیں جیسے کسی نے جان بوجھ کر روشنی کو اندر آنے سے روک رکھا ہو دن کے وقت بھی اس بنگلے کے ارد گرد عجیب سی اداسی پھیلی رہتی تھی لوگ اس راستے سے گزرتے ہوئے رفتار تیز کر لیتے تھے بچوں کو سختی سے منع کیا جاتا تھا کہ وہ یہاں کھیلنے نہ آئیں بزرگ کہتے تھے کہ اس بنگلے میں کبھی ہنسی اور خوشی آباد تھی کئی سال پہلے یہاں ایک دولت مند خاندان رہتا تھا ان کے پاس سب کچھ تھا دولت عزت اور خوشحال زندگی مگر ایک رات ایسا حادثہ ہوا جس نے سب کچھ بدل دیا کہا جاتا تھا کہ ایک ہی رات میں پورا خاندان ختم ہو گیا کسی کو اصل حقیقت معلوم نہ ہو سکی بس یہ بات پھیل گئی کہ اس بنگلے پر کسی ان دیکھی طاقت کا سایہ ہے وقت گزرتا گیا مگر بنگلہ ویسا ہی ویران رہا سب سے زیادہ خوف اس اوپر والی کھڑکی سے جڑا ہوا تھا ہر رات اندھیرا ہوتے ہی وہ کھڑکی خود بخود کھل جاتی تھی نہ کوئی ہاتھ دکھائی دیتا تھا نہ کوئی آواز بس کھڑکی کا کھلنا اور پھر خاموشی
یہی بات لوگوں کے دلوں میں ڈر پیدا کرتی تھی
خوف کی کہانیاں
اس بنگلے کے بارے میں شہر میں کئی کہانیاں مشہور تھیں کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہاں مرنے والوں کی روحیں قید ہیں کچھ کا ماننا تھا کہ ایک عورت کی روح آج بھی وہاں بھٹکتی ہے رات کے وقت جب ہوا چلتی تو بنگلے سے سرسراہٹ کی آواز آتی ایسا لگتا جیسے کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو بعض لوگوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے روشنی بھی دیکھی کبھی کھڑکی کے پاس کبھی سیڑھیوں پر لیکن کوئی بھی ہمت کر کے اندر نہیں گیا بچوں کے لیے یہ بنگلہ ڈراؤنی کہانیوں کا مرکز بن چکا تھا وہ ایک دوسرے کو ڈراتے اور پھر بھاگ جاتے بڑے لوگ بھی اس جگہ کا ذکر احتیاط سے کرتے شام ہوتے ہی بنگلہ اور زیادہ خوفناک لگنے لگتا اندھیرا جیسے اس کے اندر گہرا ہو جاتا اوپر والی کھڑکی کا کھلنا سب سے ڈراؤنا منظر تھا کچھ لوگ دور سے اسے دیکھتے اور کانپ جاتے انہیں لگتا جیسے کوئی اندر سے دیکھ رہا ہو مگر صبح ہونے پر سب کچھ ویسا ہی خاموش ہوتا نہ کوئی نشان نہ کوئی حرکت یہی خاموشی اس بنگلے کو اور زیادہ خوفناک بناتی لوگ سوچتے تھے کہ اگر واقعی وہاں کچھ نہ ہوتا تو کھڑکی ہر رات کیوں کھلتی یہ سوال ہر کسی کے دل میں تھا مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا
تین دوستوں کا تجسس
سلیم حارث اور ندیم بچپن کے دوست تھے وہ تینوں ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں کرتے تھے انہیں ڈراؤنی کہانیوں میں خاص دلچسپی تھی جب بھی بنگلے کا ذکر آتا وہ خاموش نہیں رہتے ایک شام انہوں نے فیصلہ کیا کہ حقیقت جاننی چاہیے وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ سب سچ ہے یا صرف کہانیاں سورج ڈوب رہا تھا اور آسمان پر ہلکی سی سرخی تھی تینوں دوست بنگلے کے سامنے کھڑے تھے
دل تیز تیز دھڑک رہے تھے سلیم نے ہمت دکھائی اور آگے بڑھا حارث اور ندیم بھی اس کے پیچھے تھے جیسے ہی انہوں نے دروازہ دھکیلا ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی اندر اندھیرا تھا اور عجیب سی بو تھی فرش پر قدم رکھتے ہی آواز آئی دیواروں پر لگی پرانی تصویریں انہیں گھورتی محسوس ہوئیں ہر قدم کے ساتھ خوف بڑھتا جا رہا تھا مگر تجسس نے انہیں روکنے نہیں دیا وہ آہستہ آہستہ اندر بڑھتے گئے
اندھیرے کا سامنا
بنگلے کے اندر خاموشی بہت بھاری تھی ایسا لگتا تھا جیسے ہوا بھی سانس نہیں لے رہی اچانک اوپر کی منزل سے آواز آئی وہی کھڑکی زور سے کھل گئی تینوں دوست چونک گئے اوپر دیکھتے ہی ان کے قدم رک گئے کھڑکی میں ایک عورت کا سایہ دکھائی دیا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے چہرہ دھندلا مگر آنکھیں بہت گہری لگ رہی تھیں وہ ہاتھ ہلا رہی تھی جیسے انہیں اپنی طرف بلا رہی ہو دل میں خوف کے ساتھ عجیب سی کھنچاؤ تھا سلیم نے ایک قدم آگے بڑھایا اسی لمحے دروازہ زور سے بند ہو گیا اندھیرا اور گہرا ہو گیا دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں پھر ایک آواز گونجی یہ میرا گھر ہے یہ آواز نرم مگر خوفناک تھی تینوں دوست سہم گئے انہیں لگا جیسے وہ آواز ان کے اندر اتر رہی ہو
خوف اور بھاگنے کی کوشش
حارث اور ندیم نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ ہل بھی نہ سکا سلیم کا جسم کانپ رہا تھا اندھیرے میں وہ عورت کی ہلکی ہنسی سنائی دی ایسا لگتا تھا جیسے وہ خوش ہو دیواریں قریب آتی محسوس ہوئیں ہوا اور زیادہ ٹھنڈی ہو گئی تینوں دوست ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے تھے وہ زور زور سے دروازہ دھکیلنے لگے ہر لمحہ صدیوں جیسا لگ رہا تھا آخر کار ایک زور دار دھکا لگا دروازہ چرچراتا ہوا کھل گیا وہ تینوں جان بچا کر باہر بھاگے سانس پھولی ہوئی تھی جب انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اوپر والی کھڑکی آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھی اندر سے پھر وہی ہنسی سنائی دی یہ منظر وہ کبھی نہیں بھول سکتے تھے
خاموشی کا وعدہ
اس رات کے بعد تینوں دوست بدل گئے وہ پہلے جیسے بے فکر نہیں رہے انہوں نے کسی کو پوری بات نہیں بتائی بس اتنا کہا کہ وہ بنگلہ واقعی خطرناک ہے سلیم اکثر خواب میں وہ کھڑکی دیکھتا حارث کو رات میں آوازیں سنائی دیتیں ندیم اندھیرے سے ڈرنے لگا انہوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ دوبارہ اس بنگلے کے پاس نہیں جائیں گے شہر میں آہستہ آہستہ یہ بات پھیل گئی لوگوں نے اس جگہ سے اور زیادہ دوری اختیار کر لی بنگلہ پھر خاموش ہو گیا مگر اس کی خاموشی میں خوف چھپا تھا اوپر والی کھڑکی اب بھی رات کو کھلتی تھی مگر دیکھنے کی ہمت کسی میں نہ تھی
انجام اور سبق
وقت گزرتا گیا بنگلہ وہیں کھڑا رہا ویران خاموش اور خوفناک تینوں دوستوں کی زندگی آگے بڑھ گئی مگر وہ واقعہ ان کے دل میں نقش ہو گیا انہوں نے سیکھا کہ ہر راز کو چھیڑنا ضروری نہیں کچھ جگہیں صرف خاموشی مانگتی ہیں اور کچھ کہانیاں سننے کے لیے نہیں ہوتیں بنگلہ آج بھی شہر کے کونے میں ہے اور اس کی کھڑکی آج بھی رات کو کھلتی ہے
سبق
فضول تجسس انسان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے
ہر خوفناک جگہ کی حقیقت جاننا ضروری نہیں
Veeran Bangle Ki Pehchan
Shehar ke ek khamosh kone mein ek purana bangla khara tha Yeh bangla baqi gharon se bilkul alag tha Is ki deewaron par nami aur waqt ke nishan wazeh the Darwaze zang aalood the aur lakri bohat purani ho chuki thi Khirkiyan hamesha band rehti theen Din ke waqt bhi is jagah par udaasi mehsoos hoti thi Log is raste se guzarte hue tez chalne lagte
Bachon ko mana kiya jata ke yahan na aayein Buzurg kehte the ke yahan kabhi khushi rehti thiEk daulat mand khandan yahan rehta tha Magar ek raat sab kuch khatam ho gaya Us ke baad bangla veeran ho gaya Sab se zyada dar upar wali khirki se jura tha Har raat woh khud ba khud khul jati thi
Khof Ki Kahaniyan
Is bangle ke bare mein kai kahaniyan mashhoor theen Kuch log kehte the roohen qaid hain Kuch kehte the ek aurat ki rooh bhatakti hai Raat ko ajeeb awaazein aati theen Log roshni dekhne ka dawa karte Magar koi andar nahi gaya
Yahi khamoshi dar ko barhati thi
Teen Doston Ka Tajassus
Saleem Haris aur Nadeem gehre dost the Unhein darawni kahaniyon ka shoq tha Ek shaam unhon ne sach jaanne ka faisla kiya Dil tez dhadak rahe the Darwaza khula aur thandi hawa aayi Andar gehra andhera tha Magar tajassus unhein roakta na tha
Andhere Ka Samna
Andar khamoshi bohat bhari thi Achanak upar wali khirki khul gayi Ek aurat ka saya nazar aaya Us ki aankhein gehri theen Woh haath hila rahi thi Darwaza zor se band ho gaya Awaaz goonji yeh mera ghar hai
Khof Aur Bhagne Ki Koshish
Teenon ne darwaza kholne ki koshish ki Hansi ki awaaz aayi Aakhir darwaza khul gaya Woh bahar bhaag gaye
Peeche dekha to khirki band ho rahi thi
Khamoshi Ka Wada
Is waqia ke baad teenon badal gaye Raat ko khawab aate rahe Unhon ne wada kiya dobara nahi jayenge Shehar walon ka dar aur barh gaya
Anjaam Aur Saba
Bangla aaj bhi khara hai Khirki aaj bhi raat ko khulti hai Teenon ne seekha har raaz chedna zaroori nahi
Sabaq
Fuzool tajassus hamesha khatre mein daal deta haihaag gaye aur kabhi dobara wahan nahi gaye.


