بچپن کی دوستی اور گاؤں کی زندگی
احمد اور بلال ایک سادہ سے گاؤں میں رہتے تھے جہاں کچے راستے سبز کھیتوں سے گزرتے تھے اور صبح کی ہوا میں مٹی کی خوشبو بسی رہتی تھی دونوں بچپن سے اکٹھے تھے ایک ہی استاد سے پڑھتے ایک ہی کنویں سے پانی پیتے اور ایک ہی میدان میں کھیلتے تھے گاؤں کے بزرگ اکثر ان کی مثال دیتے کہ اگر دوستی دیکھنی ہو تو ان دونوں کو دیکھ لو احمد باتوں میں بہت مضبوط تھا وہ بڑے بڑے وعدے کرتا اور مستقبل کے خواب بناتا بلال کم بولتا مگر دل کا صاف تھا وہ بات کم اور عمل زیادہ پر یقین رکھتا تھا دونوں کی دوستی ہنسی خوشی کے دنوں میں بہت مضبوط دکھائی دیتی تھی وہ ایک دوسرے کے بغیر کسی کام کا تصور نہیں کرتے تھے جب احمد کسی مشکل میں ہوتا تو بلال خاموشی سے ساتھ کھڑا ہو جاتا اور جب بلال تھک جاتا تو احمد اس کو حوصلہ دیتا مگر یہ سب آسان دنوں کی بات تھی گاؤں کی زندگی پرسکون تھی اس لیے کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی اصل پہچان سامنے آتی ہے اور دوستی بھی خود کو آزمائش میں ظاہر کرتی ہے گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ دوست وہی جو مشکل میں ساتھ دے مگر یہ بات اکثر کہانیوں میں ہی سنی جاتی تھی احمد اور بلال کے لیے یہ محض ایک جملہ تھا جس کی گہرائی کا اندازہ انہیں نہیں تھا اس مرحلے تک دونوں ایک دوسرے کو مکمل سمجھتے تھے اور یہی اعتماد آگے چل کر ایک بڑے سبق کا سبب بننے والا تھا
جنگل کی سیر کا فیصلہ
ایک دن احمد نے تجویز دی کہ کیوں نہ قریبی جنگل کی سیر کی جائے اس جنگل کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں فطرت اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ موجود ہے بلال نے تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی مگر دوستی کی خاطر مان گیا دونوں نے صبح سویرے نکلنے کا فیصلہ کیا کھانے کا تھوڑا سا سامان لیا اور گاؤں کی گلیوں سے گزرتے ہوئے جنگل کی طرف چل پڑے راستے میں وہ مستقبل کی باتیں کرتے رہے احمد بڑے یقین سے کہتا رہا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے حالات کیسے بھی ہوں بلال مسکرا کر اس کی بات سنتا رہا اس کے دل میں دوستی کی قدر تھی مگر وہ جانتا تھا کہ اصل بات مشکل وقت میں سامنے آتی ہے جنگل کے قریب پہنچتے ہی ماحول بدلنے لگا درخت اونچے اور گھنے ہو گئے روشنی کم ہونے لگی مگر احمد کے جوش میں کوئی کمی نہ آئی وہ ہنستا رہا اور بلال کو تسلی دیتا رہا کہ کچھ نہیں ہوگا یہ سب صرف کہانیاں ہیں بلال نے دل میں دعا کی کہ سفر خیر سے گزر جائے یہ سیر دونوں کے لیے ایک یادگار لمحہ بننے والی تھی مگر کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہی فیصلہ ان کی دوستی کو ایک نیا رخ دے دے گا جنگل کی خاموشی میں قدموں کی آواز تیز لگنے لگی اور دل کی دھڑکنیں بھی اس خاموشی کا حصہ بن گئیں
جنگل کا بدلتا ہوا ماحول
جنگل کے اندر داخل ہوتے ہی پرندوں کی آوازیں کم ہو گئیں ہوا میں ٹھنڈک بڑھ گئی اور درختوں کے سائے لمبے ہوتے گئے شروع میں یہ سب حسین لگ رہا تھا مگر آہستہ آہستہ ماحول سنجیدہ ہونے لگا بلال کے دل میں ایک انجانا سا خوف جاگنے لگا احمد نے بھی پہلی بار اردگرد غور سے دیکھا خاموشی گہری ہو رہی تھی اور دور کہیں سے جھاڑیوں کی ہلکی سی حرکت سنائی دی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مگر کچھ کہے بغیر آگے بڑھتے رہے اس لمحے دوستی کی آزمائش قریب آ رہی تھی مگر انہیں اس کا احساس نہیں تھا احمد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا مگر اس نے خود کو مضبوط ظاہر کیا بلال نے دل میں حوصلہ جمع کیا اور خود کو سنبھالے رکھا جنگل اب اتنا خاموش تھا کہ اپنی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہ وہ لمحہ تھا جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور اپنی اصل کو پہچانتا ہے فطرت کبھی کبھی انسان کو آئینہ دکھاتی ہے تاکہ وہ خود کو دیکھ سکے احمد اور بلال بھی اسی آئینے کے سامنے کھڑے تھے مگر دونوں کی تصویر ایک جیسی نہیں تھی
ریچھ کا اچانک سامنا
اچانک جھاڑیوں میں زور دار حرکت ہوئی اور ایک بڑا ریچھ سامنے آ گیا اس کی موجودگی نے فضا کو خوف سے بھر دیا احمد کے دل میں خوف غالب آ گیا اس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا اور قریبی درخت پر چڑھ گیا اس وقت اسے صرف اپنی جان دکھائی دے رہی تھی بلال نیچے کھڑا رہ گیا اسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا احمد نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا بلال کے دل میں ایک ٹھنڈا سا احساس پھیل گیا یہ وہ لمحہ تھا جب اسے دوستی کی حقیقت نظر آئی خوف کے عالم میں بھی اس نے حوصلہ نہیں چھوڑا اسے بچپن کی بات یاد آئی کہ ریچھ مردہ انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا اس نے فوراً زمین پر لیٹ کر سانس روک لی ریچھ قریب آیا اس کی سانس بلال کے چہرے پر محسوس ہوئی وہ لمحے صدیوں جیسے لگ رہے تھے احمد اوپر درخت پر بیٹھا خاموش تھا ریچھ نے بلال کو سونگھا اور کچھ دیر بعد وہاں سے چلا گیا یہ زندگی اور موت کے بیچ کا سفر تھا جس نے بلال کو اندر سے بدل دیا
خطرہ ٹلنے کے بعد کی گفتگو
جب ریچھ چلا گیا تو جنگل کی خاموشی دوبارہ چھا گئی احمد آہستہ آہستہ درخت سے نیچے اترا اس کے چہرے پر مصنوعی سی مسکراہٹ تھی اس نے ہلکے انداز میں بات کرنے کی کوشش کی مگر بلال کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی بلال خاموش کھڑا رہا اس کی خاموشی میں سوال بھی تھا اور جواب بھی احمد نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی مگر بلال کے دل میں جو بات بیٹھ چکی تھی وہ اب نکلنا چاہتی تھی بلال نے آہستہ مگر واضح انداز میں کہا کہ ایسے دوستوں سے بچنا چاہیے جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیں اس ایک جملے نے احمد کے دل پر گہرا اثر کیا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا شرمندگی اس کے چہرے سے جھلکنے لگی وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے جنگل نے آج اسے ایک سبق سکھایا تھا جو کتابوں میں نہیں ملتا
احساس اور فاصلے کی ابتدا
گاؤں واپس آتے ہوئے دونوں خاموش تھے راستہ وہی تھا مگر دل بدل چکے تھے احمد کے دل میں پچھتاوا تھا اور بلال کے دل میں ٹوٹا ہوا اعتماد بلال نے آہستہ آہستہ احمد سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیا اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہر مسکراہٹ سچی نہیں ہوتی اور ہر وعدہ نبھایا نہیں جاتا احمد نے کئی بار معافی مانگنے کی کوشش کی مگر کچھ زخم وقت مانگتے ہیں بلال نے اسے دشمن نہیں بنایا مگر وہ دوستی پہلے جیسی نہ رہی یہ خاموش فاصلہ ایک مضبوط فیصلہ تھا بلال نے اپنی عزت نفس کو ترجیح دی اور احمد نے زندگی کا ایک اہم سبق سیکھا کہ دوستی صرف باتوں سے نہیں عمل سے ثابت ہوتی ہے
انجام اور سبق
یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل دوستی مشکل وقت میں سامنے آتی ہے جو ساتھ کھڑا رہے وہی سچا دوست ہے
سبق
مشکل وقت میں ساتھ دینے والا ہی حقیقی دوست ہوتا ہے دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے۔
Sachi Dosti Ka Imtihan
Bachpan Ki Dosti Aur Gaon Ki Zindagi
Ahmed aur Bilal aik saada se gaon mein rehte the jahan kachay rastay sabz kheton se guzarte the aur subah ki hawa mein mitti ki khushboo hoti thi dono bachpan se saath the aik hi ustad se parhte aik hi maidan mein khelte aur aik doosre ke dukh sukh mein shaamil rehte the Ahmed baaton ka hero tha jabke Bilal amal ka yaqeen rakhta tha log un ki dosti ki misaal dete the magar asal imtihan abhi baqi tha
Jangal Ki Sair Ka Faisla
Ahmed ne jangal ki sair ka mashwara diya Bilal ne dosti ki khatir haan keh di subah dono nikle raaste bhar baatein hoti raheen Ahmed yaqeen dilata raha ke wo hamesha saath rahega Bilal chup chaap sunta raha jangal qareeb aaya to khamoshi gehri hoti chali gayi
Jangal Ka Badalta Mahaul
Jangal mein dakhil hotay hi parindon ki awaaz kam ho gayi hawa thandi ho gayi aur khauf ka ehsaas barhne laga dono ke dil tez dharkne lage magar wo aage barhte rahe qudrat ne un ke liye aik aaina tayar kar rakha tha
Reech Ka Achanak Saamna
Achanak aik bara reech samne aa gaya Ahmed dar kar darakht par charh gaya Bilal neeche reh gaya us ne zameen par let kar saans rok li reech ne usay soongha aur chala gaya yeh lamha zindagi ka sab se sakht imtihan tha
Khatra Talne Ke Baad Ki Guftagu
Reech ke janay ke baad Ahmed neeche utra aur baat karne ki koshish ki Bilal ne sakhti se kaha ke mushkil waqt mein chhor dene walon se bachna chahiye yeh alfaaz teer ki tarah lage
Ehsaas Aur Faaslay Ki Ibtida
Gaon wapas aate hue dono khamosh the Bilal ne faasla rakh liya Ahmed ko apni ghalti ka ehsaas hua magar bharosa toot chuka tha
Anjaam Aur Sabaq
Yeh kahani batati hai ke asal dosti mushkil waqt mein pehchani jati hai
Sabaq
Mushkil waqt mein saath dene wala hi sacha dost hota hai


