جھیل کا خوفناک تعارف
گھنے جنگل کے بیچ ایک پرانی جھیل موجود تھی جسے لوگ اندھیری جھیل کے نام سے جانتے تھے یہ جھیل دن کے وقت بھی خاموش اور اداس لگتی تھی اس کے اردگرد اونچے درخت کھڑے رہتے جن کی شاخیں پانی پر جھکی رہتیں مقامی لوگ کہتے تھے کہ اس جھیل کے پانی میں عجیب سا وزن ہے جو انسان کے دل کو بوجھل کر دیتا ہے بچے وہاں کھیلنے سے ڈرتے تھے اور بوڑھے لوگ اس کا نام لیتے ہوئے بھی کانپ جاتے تھے کہا جاتا تھا کہ صدیوں پہلے ایک معصوم لڑکی اس جھیل میں ڈوب گئی تھی وہ لڑکی اپنے خاندان کے ظلم اور تنہائی سے ٹوٹ چکی تھی اس کی موت کے بعد اس کی روح کو سکون نہ ملا اور وہ جھیل کے ساتھ بندھ گئی رات کے وقت جھیل کے پانی سے ہلکی روشنی نکلتی اور عجیب سی آوازیں سنائی دیتیں جیسے کوئی مدد مانگ رہا ہو لوگ کہتے تھے کہ جو بھی رات کو اس جھیل کے قریب گیا وہ کبھی پہلے جیسا نہ رہا خوف اس کے دل میں بس گیا اور نیند اس سے روٹھ گئی اس جھیل کی کہانیاں نسل در نسل چلتی رہیں اور وقت کے ساتھ اس کا خوف اور بھی گہرا ہوتا چلا گیا
- جھیل کا خوفناک تعارف
- قصبے کے نوجوانوں کا فیصلہ
- اندھیری جھیل کی خاموشی
- چڑیل کا ظہور
- خوف اور بے بسی کا لمحہ
- واپسی اور بدلتی زندگی
- اندھیری جھیل کا سبق
- Moral
- Jheel Ka Khofnaak Taaruf
- Qasbay Ke Naujawanon Ka Faisla
- Andheri Jheel Ki Khamoshi
- Churail Ka Zahoor
- Khauf Aur Bebasi Ka Lamha
- Wapsi Aur Badalti Zindagi
- Andheri Jheel Ka Sabak
- Moral
قصبے کے نوجوانوں کا فیصلہ
قصبے کے چند نوجوان جوش اور تجسس سے بھرے ہوئے تھے وہ بچپن سے ان کہانیوں کو سنتے آ رہے تھے مگر ان کے دل میں یہ خیال بیٹھ چکا تھا کہ یہ سب محض وہم ہے انہوں نے سوچا کہ اگر حقیقت جان لی جائے تو خوف ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا ایک شام وہ سب اکٹھے ہوئے اور جھیل تک جانے کا فیصلہ کیا ان کے دلوں میں ڈر بھی تھا مگر دکھانے کی ہمت زیادہ تھی رات گہری ہونے لگی تو وہ جنگل کی طرف چل پڑے راستے میں درختوں کی سرسراہٹ اور جانوروں کی آوازیں ان کے قدم روکنے کی کوشش کر رہی تھیں مگر وہ آگے بڑھتے رہے جھیل کے کنارے پہنچ کر ان سب نے خاموشی محسوس کی ایسی خاموشی جو کانوں میں شور بن جاتی ہے ان کے دل تیزی سے دھڑکنے لگے مگر کوئی پیچھے ہٹنے کو تیار نہ تھا ہر ایک یہ ثابت کرنا چاہتا تھا کہ وہ خوف سے بالاتر ہے
اندھیری جھیل کی خاموشی
جھیل کے کنارے کھڑے ہو کر نوجوانوں نے پانی کو غور سے دیکھا پانی ساکن تھا مگر اس میں گہرائی کا احساس تھا چاند کی روشنی بھی وہاں مدھم لگ رہی تھی ہوا اچانک سرد ہو گئی اور درخت زور زور سے ہلنے لگے اس لمحے ہر نوجوان کے دل میں عجیب سا خوف اترنے لگا کسی نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اندھیرا اور گہرا محسوس ہوا جھیل کے پانی سے ہلکی سی لہریں اٹھنے لگیں جیسے کوئی اندر سے جاگ رہا ہو خاموشی اب بوجھ بن چکی تھی ان کے دلوں میں پچھتاوا پیدا ہونے لگا مگر اب واپسی ممکن نہ لگ رہی تھی ہر سانس کے ساتھ خوف بڑھ رہا تھا اور جھیل کی طرف نظریں جمی ہوئی تھیں
چڑیل کا ظہور
اچانک جھیل کے بیچوں بیچ پانی بلند ہوا اور ایک سایہ نمودار ہوا وہ سایہ آہستہ آہستہ واضح ہونے لگا ایک عورت جس کے لمبے بھیگے بال چہرے پر بکھرے ہوئے تھے اس کی آنکھیں سرخ تھیں اور چہرے پر درد بھری مسکراہٹ تھی نوجوانوں کے جسم ساکت ہو گئے وہ عورت پانی پر کھڑی تھی جیسے پانی اس کا راستہ ہو اس کی موجودگی سے فضا مزید ٹھنڈی ہو گئی اس کی آنکھوں میں صدیوں کا غصہ اور دکھ چھپا تھا اس نے نوجوانوں کی طرف دیکھا اور انہیں اپنے قریب آنے کا احساس دلایا اس لمحے سب کو سمجھ آ گیا کہ کہانیاں سچ تھیں اور وہ ایک خوفناک حقیقت کے سامنے کھڑے تھے
خوف اور بے بسی کا لمحہ
نوجوانوں نے بھاگنے کی کوشش کی مگر ان کے قدم زمین میں جکڑ گئے جھیل کے پانی سے ہاتھ نکلے اور ان کے پاؤں کو پکڑنے لگے دل میں چیخیں تھیں مگر زبان خاموش تھی ہر طرف خوف کی گرفت تھی ایک نوجوان نے ہمت جمع کی اور دل ہی دل میں اللہ کو یاد کیا اس نے قرآن کی آیت پڑھی اس کی آواز کانپ رہی تھی مگر ایمان مضبوط تھا جیسے ہی آیت مکمل ہوئی جھیل کا پانی رک گیا وہ ہاتھ غائب ہو گئے اور عورت کی چیخ گونج اٹھی اس چیخ میں درد اور شکست دونوں شامل تھے لمحوں میں وہ پانی میں واپس چلی گئی اور جھیل پھر سے ساکن ہو گئی
واپسی اور بدلتی زندگی
نوجوان زمین پر بیٹھ گئے ان کے چہرے زرد تھے اور آنکھوں میں آنسو تھے وہ جان گئے تھے کہ کچھ چیزیں انسان کے بس سے باہر ہوتی ہیں وہ خاموشی سے واپس لوٹے راستے میں کسی نے بات نہ کی قصبے پہنچ کر انہوں نے سب کو سچ بتایا اس رات کے بعد ان کی زندگی بدل گئی غرور ختم ہو گیا اور دل میں عاجزی آ گئی وہ سمجھ گئے کہ ایمان اور سچائی ہی اصل طاقت ہے
اندھیری جھیل کا سبق
اندھیری جھیل آج بھی وہیں موجود ہے مگر اب کوئی رات کو اس کے قریب نہیں جاتا لوگ جان گئے ہیں کہ ہر کہانی محض کہانی نہیں ہوتی کچھ سچائیاں آزمائش بن کر سامنے آتی ہیں اس واقعے نے قصبے والوں کو سکھا دیا کہ خوف سے کھیلنا دانشمندی نہیں اور روحانی طاقت کا احترام ضروری ہے
Moral
ایمان اور عاجزی انسان کو ہر اندھیرے سے بچا سکتی ہے
Jheel Ka Khofnaak Taaruf
Ghanay jangal ke beech ek purani jheel thi jise log Andheri Jheel ke naam se jaante thay ye jheel din ke waqt bhi udaas aur khamosh lagti thi is ke gird oonchay darakht kharay rehtay jin ki shaakhain pani par jhuki rehti maqami log kehte thay ke is jheel ke pani mein ajeeb sa bojh hai jo dil ko bhaari kar deta bachay wahan khelne se dartay aur buzurg iska naam lete hue bhi kaanp jatay thay kaha jata tha ke sadiyon pehle ek masoom larki is jheel mein doob gayi thi us ki rooh ko sakoon na mila aur wo jheel se bandh gayi raat ko pani se halki roshni nikalti aur ajeeb awazain aati log mante thay jo bhi raat ko yahan gaya wo pehle jaisa na raha
Qasbay Ke Naujawanon Ka Faisla
Qasbay ke chand naujawan tajassus aur josh se bharay thay wo bachpan se ye kahaniyan suntay aa rahay thay magar unhein lagta tha ke ye sirf waham hai ek raat unhon ne sach jaanne ka faisla kiya dil mein darr tha magar himmat zyada thi jab wo jangal ki taraf chalay to har qadam par khauf mehsoos hota raha lekin koi peechay nahi hata
Andheri Jheel Ki Khamoshi
Jheel ke kinare pohanch kar sab ne pani ko dekha jo bilkul saakin tha hawa thandi ho gayi darakht zor se hilanay lagay khamoshi bohat bhaari thi har dil tez dhadak raha tha pani mein halki lehrain uthnay lagi jaise koi andar se jaag raha ho
Churail Ka Zahoor
Achanak jheel ke beech pani uchaal khaya aur ek aurat samnay aayi us ke baal bheegay hue thay aankhain surkh aur chehra dard se bhara hua tha wo pani par khari thi us ki maujoodgi se fiza jam si gayi sab naujawan sannaatay mein aa gaye
Khauf Aur Bebasi Ka Lamha
Naujawan bhaagna chahte thay magar qadam jam gaye pani se haath niklay aur pair pakarnay lagay ek larkay ne Allah ko yaad kiya aur Quran ki ayat parhi pani ruk gaya haath gaib ho gaye aur churail cheekhti hui pani mein wapas chali gayi
Wapsi Aur Badalti Zindagi
Sab zameen par baith gaye aankhon mein aansu thay wo khamoshi se qasbay wapas aaye un ki zindagi badal chuki thi ghamand khatam ho gaya aur dil narm ho gaye
Andheri Jheel Ka Sabak
Aaj bhi Andheri Jheel maujood hai magar koi raat ko qareeb nahi jata log samajh chukay hain ke har cheez mazaaq nahi hoti aur roohani quwwat ka ehtram zaroori hai
Moral
Iman aur ajzi insan ko har andheray se bacha leti hai


