اندھیری جھیل کی چڑیل

Zaman Shahid Bajwa
Zaman Shahid Bajwa - Story Writer
11 Min Read

ویران بنگلے کی پہچان

شہر کے ایک خاموش کونے میں ایک پرانا بنگلہ کھڑا تھا یہ بنگلہ باقی گھروں سے بالکل الگ تھا اس کی دیواروں پر نمی اور وقت کے نشان صاف دکھائی دیتے تھے دروازے زنگ آلود تھے اور لکڑی اتنی پرانی ہو چکی تھی کہ ہاتھ لگاتے ہی چرچرانے لگتی تھی کھڑکیاں ہمیشہ بند رہتی تھیں جیسے کسی نے جان بوجھ کر روشنی کو اندر آنے سے روک رکھا ہو دن کے وقت بھی اس بنگلے کے ارد گرد عجیب سی اداسی پھیلی رہتی تھی لوگ اس راستے سے گزرتے ہوئے رفتار تیز کر لیتے تھے بچوں کو سختی سے منع کیا جاتا تھا کہ وہ یہاں کھیلنے نہ آئیں بزرگ کہتے تھے کہ اس بنگلے میں کبھی ہنسی اور خوشی آباد تھی کئی سال پہلے یہاں ایک دولت مند خاندان رہتا تھا ان کے پاس سب کچھ تھا دولت عزت اور خوشحال زندگی مگر ایک رات ایسا حادثہ ہوا جس نے سب کچھ بدل دیا کہا جاتا تھا کہ ایک ہی رات میں پورا خاندان ختم ہو گیا کسی کو اصل حقیقت معلوم نہ ہو سکی بس یہ بات پھیل گئی کہ اس بنگلے پر کسی ان دیکھی طاقت کا سایہ ہے وقت گزرتا گیا مگر بنگلہ ویسا ہی ویران رہا سب سے زیادہ خوف اس اوپر والی کھڑکی سے جڑا ہوا تھا ہر رات اندھیرا ہوتے ہی وہ کھڑکی خود بخود کھل جاتی تھی نہ کوئی ہاتھ دکھائی دیتا تھا نہ کوئی آواز بس کھڑکی کا کھلنا اور پھر خاموشی یہی بات لوگوں کے دلوں میں ڈر پیدا کرتی تھی

خوف کی کہانیاں

اس بنگلے کے بارے میں شہر میں کئی کہانیاں مشہور تھیں کچھ لوگ کہتے تھے کہ وہاں مرنے والوں کی روحیں قید ہیں کچھ کا ماننا تھا کہ ایک عورت کی روح آج بھی وہاں بھٹکتی ہے رات کے وقت جب ہوا چلتی تو بنگلے سے سرسراہٹ کی آواز آتی ایسا لگتا جیسے کوئی آہستہ آہستہ چل رہا ہو بعض لوگوں نے دعوی کیا کہ انہوں نے روشنی بھی دیکھی کبھی کھڑکی کے پاس کبھی سیڑھیوں پر لیکن کوئی بھی ہمت کر کے اندر نہیں گیا بچوں کے لیے یہ بنگلہ ڈراؤنی کہانیوں کا مرکز بن چکا تھا وہ ایک دوسرے کو ڈراتے اور پھر بھاگ جاتے بڑے لوگ بھی اس جگہ کا ذکر احتیاط سے کرتے شام ہوتے ہی بنگلہ اور زیادہ خوفناک لگنے لگتا اندھیرا جیسے اس کے اندر گہرا ہو جاتا اوپر والی کھڑکی کا کھلنا سب سے ڈراؤنا منظر تھا کچھ لوگ دور سے اسے دیکھتے اور کانپ جاتے انہیں لگتا جیسے کوئی اندر سے دیکھ رہا ہو مگر صبح ہونے پر سب کچھ ویسا ہی خاموش ہوتا نہ کوئی نشان نہ کوئی حرکت یہی خاموشی اس بنگلے کو اور زیادہ خوفناک بناتی لوگ سوچتے تھے کہ اگر واقعی وہاں کچھ نہ ہوتا تو کھڑکی ہر رات کیوں کھلتی یہ سوال ہر کسی کے دل میں تھا مگر جواب کسی کے پاس نہیں تھا

تین دوستوں کا تجس

سلیم حارث اور ندیم بچپن کے دوست تھے وہ تینوں ایک دوسرے کے بغیر کچھ نہیں کرتے تھے انہیں ڈراؤنی کہانیوں میں خاص دلچسپی تھی جب بھی بنگلے کا ذکر آتا وہ خاموش نہیں رہتے ایک شام انہوں نے فیصلہ کیا کہ حقیقت جاننی چاہیے وہ جاننا چاہتے تھے کہ یہ سب سچ ہے یا صرف کہانیاں سورج ڈوب رہا تھا اور آسمان پر ہلکی سی سرخی تھی تینوں دوست بنگلے کے سامنے کھڑے تھے دل تیز تیز دھڑک رہے تھے سلیم نے ہمت دکھائی اور آگے بڑھا حارث اور ندیم بھی اس کے پیچھے تھے جیسے ہی انہوں نے دروازہ دھکیلا
ایک ٹھنڈی ہوا کا جھونکا آیا ان کے جسم میں سنسنی دوڑ گئی اندر اندھیرا تھا اور عجیب سی بو تھی فرش پر قدم رکھتے ہی آواز آئی دیواروں پر لگی پرانی تصویریں انہیں گھورتی محسوس ہوئیں ہر قدم کے ساتھ خوف بڑھتا جا رہا تھا مگر تجسس نے انہیں روکنے نہیں دیا وہ آہستہ آہستہ اندر بڑھتے گئے


اندھیرے کا سامن

بنگلے کے اندر خاموشی بہت بھاری تھی ایسا لگتا تھا جیسے ہوا بھی سانس نہیں لے رہی اچانک اوپر کی منزل سے آواز آئی وہی کھڑکی زور سے کھل گئی تینوں دوست چونک گئے اوپر دیکھتے ہی ان کے قدم رک گئے کھڑکی میں ایک عورت کا سایہ دکھائی دیا اس کے بال بکھرے ہوئے تھے چہرہ دھندلا مگر آنکھیں بہت گہری لگ رہی تھیں وہ ہاتھ ہلا رہی تھی جیسے انہیں اپنی طرف بلا رہی ہو دل میں خوف کے ساتھ عجیب سی کھنچاؤ تھا سلیم نے ایک قدم آگے بڑھایا اسی لمحے دروازہ زور سے بند ہو گیا اندھیرا اور گہرا ہو گیا دلوں کی دھڑکنیں تیز ہو گئیں پھر ایک آواز گونجی یہ میرا گھر ہے یہ آواز نرم مگر خوفناک تھی تینوں دوست سہم گئے انہیں لگا جیسے وہ آواز ان کے اندر اتر رہی ہو

خوف اور بھاگنے کی کوشش

حارث اور ندیم نے دروازہ کھولنے کی کوشش کی مگر دروازہ ہل بھی نہ سکا سلیم کا جسم کانپ رہا تھا اندھیرے میں وہ عورت کی ہلکی ہنسی سنائی دی ایسا لگتا تھا جیسے وہ خوش ہو دیواریں قریب آتی محسوس ہوئیں
ہوا اور زیادہ ٹھنڈی ہو گئی تینوں دوست ایک دوسرے کو پکڑے ہوئے تھے وہ زور زور سے دروازہ دھکیلنے لگے ہر لمحہ صدیوں جیسا لگ رہا تھا آخر کار ایک زور دار دھکا لگا دروازہ چرچراتا ہوا کھل گیا وہ تینوں جان بچا کر باہر بھاگے سانس پھولی ہوئی تھی جب انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو اوپر والی کھڑکی آہستہ آہستہ بند ہو رہی تھی اندر سے پھر وہی ہنسی سنائی دی یہ منظر وہ کبھی نہیں بھول سکتے تھے

چھٹا حصہ خاموشی کا وعدہ

اس رات کے بعد تینوں دوست بدل گئے وہ پہلے جیسے بے فکر نہیں رہے انہوں نے کسی کو پوری بات نہیں بتائی بس اتنا کہا کہ وہ بنگلہ واقعی خطرناک ہے سلیم اکثر خواب میں وہ کھڑکی دیکھتا حارث کو رات میں آوازیں سنائی دیتیں ندیم اندھیرے سے ڈرنے لگا انہوں نے آپس میں وعدہ کیا کہ دوبارہ اس بنگلے کے پاس نہیں جائیں گے شہر میں آہستہ آہستہ یہ بات پھیل گئی لوگوں نے اس جگہ سے اور زیادہ دوری اختیار کر لی بنگلہ پھر خاموش ہو گیا مگر اس کی خاموشی میں خوف چھپا تھا اوپر والی کھڑکی اب بھی رات کو کھلتی تھی مگر دیکھنے کی ہمت کسی میں نہ تھی

انجام اور سبق

وقت گزرتا گیا بنگلہ وہیں کھڑا رہا ویران خاموش اور خوفناک تینوں دوستوں کی زندگی آگے بڑھ گئی مگر وہ واقعہ ان کے دل میں نقش ہو گیا انہوں نے سیکھا کہ ہر راز کو چھیڑنا ضروری نہیں کچھ جگہیں صرف خاموشی مانگتی ہیں اور کچھ کہانیاں سننے کے لیے نہیں ہوتیں بنگلہ آج بھی شہر کے کونے میں ہے اور اس کی کھڑکی آج بھی رات کو کھلتی ہے

سبق

فضول تجسس انسان کو خطرے میں ڈال سکتا ہے
ہر خوفناک جگہ کی حقیقت جاننا ضروری نہیں


Veeran Bangle Ki Pehchan

Shehar ke ek khamosh kone mein ek purana bangla khara tha Yeh bangla baqi gharon se bilkul alag tha Is ki deewaron par nami aur waqt ke nishan wazeh the Darwaze zang aalood the aur lakri bohat purani ho chuki thi Khirkiyan hamesha band rehti theen Din ke waqt bhi is jagah par udaasi mehsoos hoti thi Log is raste se guzarte hue tez chalne lagte Bachon ko mana kiya jata ke yahan na aayein Buzurg kehte the ke yahan kabhi khushi rehti thi Ek daulat mand khandan yahan rehta tha Magar ek raat sab kuch khatam ho gaya Us ke baad bangla veeran ho gaya Sab se zyada dar upar wali khirki se jura tha Har raat woh khud ba khud khul jati thi.

Khof Ki Kahaniyan

Is bangle ke bare mein kai kahaniyan mashhoor theen Kuch log kehte the roohen qaid hain Kuch kehte the ek aurat ki rooh bhatakti hai Raat ko ajeeb awaazein aati theen Log roshni dekhne ka dawa karte Magar koi andar nahi gaya yahi khamoshi dar ko barhati thi

Teen Doston Ka Tajassus

Saleem Haris aur Nadeem gehre dost the Unhein darawni kahaniyon ka shoq tha Ek shaam unhon ne sach jaanne ka faisla kiya Dil tez dhadak rahe the Darwaza khula aur thandi hawa aayi Andar gehra andhera tha Magar tajassus unhein roakta na tha

Chautha Hissa Andhere Ka Samna

Andar khamoshi bohat bhari thi Achanak upar wali khirki khul gayi Ek aurat ka saya nazar aaya Us ki aankhein gehri theen Woh haath hila rahi thi Darwaza zor se band ho gaya Awaaz goonji yeh mera ghar hai

Paanchwa Hissa Khof Aur Bhagne Ki Koshish

Teenon ne darwaza kholne ki koshish ki Hansi ki awaaz aayi Aakhir darwaza khul gaya Woh bahar bhaag gaye Peeche dekha to khirki band ho rahi thi

Chhata Hissa Khamoshi Ka Wada

Is waqia ke baad teenon badal gaye Raat ko khawab aate rahe Unhon ne wada kiya dobara nahi jayenge Shehar walon ka dar aur barh gaya

Saatwa Hissa Anjaam Aur Sabaq

Bangla aaj bhi khara hai Khirki aaj bhi raat ko khulti hai Teenon ne seekha har raaz chedna zaroori nahi

Sabaq

Fuzool tajassus hamesha khatre mein daal deta hai

Share This Article
Story Writer
Follow:
Explore kids’ stories written by Zaman Shahid Bajwa at UrduKahani.org. Read unique, moral, and entertaining tales for children that inspire learning and imagination.