بچپن کی بے لوث دوستی
علی اور زید ایک ہی محلے میں پلے بڑھے تھے ان کی دوستی بچپن سے ہی خاص تھی دونوں ایک دوسرے کے بغیر ادھورے سمجھے جاتے تھے صبح کھیل میدان میں ساتھ جانا شام کو ایک ہی جگہ بیٹھ کر خوابوں کی باتیں کرنا ان کا معمول تھا علی سادہ مزاج تھا اس کی باتوں میں سچائی اور دل میں نرمی تھی وہ ہمیشہ دوسروں کا خیال رکھتا زید ذہین تھا مگر اس کے اندر آہستہ آہستہ غرور پیدا ہو رہا تھا وہ اپنی عقل کو سب سے بہتر سمجھنے لگا تھا اس کے باوجود علی نے کبھی اس کی کمزوریوں کو محسوس نہیں ہونے دیا دونوں اسکول میں بھی ایک ساتھ تھے علی محنت کرتا تھا جبکہ زید اپنی ذہانت پر فخر کرتا تھا لوگوں کو لگتا تھا کہ یہ دوستی ہمیشہ ایسی ہی رہے گی مگر وقت کے ساتھ انسان بدل جاتا ہے اور یہی تبدیلی اس کہانی کا آغاز بنی
خواب اور مقابلے کا فیصلہ
ایک دن شہر میں ایک بڑے مقابلے کا اعلان ہوا یہ مقابلہ علم ہنر اور کردار کا امتحان تھا انعام بڑا تھا اور شہرت بھی علی نے اس مقابلے کو سیکھنے کا موقع سمجھا جبکہ زید نے اسے اپنی برتری ثابت کرنے کا ذریعہ مانا دونوں نے مل کر حصہ لینے کا فیصلہ کیا مگر نیتیں مختلف تھیں علی چاہتا تھا کہ محنت کرے اور کچھ نیا سیکھے زید چاہتا تھا کہ بغیر زیادہ محنت کے سب کو پیچھے چھوڑ دے اس دن ان کے درمیان ایک خاموش فرق پیدا ہو گیا جو نظر تو نہیں آتا تھا مگر دلوں میں جگہ بنا چکا تھا
محنت اور غرور کا فرق
مقابلے کی تیاری شروع ہوئی علی دن رات پڑھتا سوالات حل کرتا اور اپنی غلطیوں سے سیکھتا وہ سچائی اور ایمانداری کو اپنی طاقت سمجھتا تھا زید کبھی پڑھتا کبھی ٹال دیتا اسے لگتا تھا کہ عقل ہی سب کچھ ہے وہ دوسروں کی نقل بھی کرتا اور آسان راستے تلاش کرتا علی نے کئی بار اسے سمجھایا مگر زید نے سنجیدگی نہ دکھائی یہاں سے دونوں کے راستے آہستہ آہستہ الگ ہونے لگے
مقابلے کا دن
بالآخر مقابلے کا دن آ گیا علی پراعتماد مگر عاجز تھا زید پراعتماد مگر مغرور علی نے ہر سوال دل سے حل کیا زید نے جلدی میں کئی غلطیاں کیں اس کا غرور اس کی آنکھوں پر پردہ بن چکا تھا جب نتائج آئے تو علی کامیاب قرار پایا زید خاموش رہ گیا اس دن زید نے پہلی بار خود کو ہارتا ہوا دیکھا
احساس اور ندامت
زید کے دل میں ندامت بھر گئی اسے احساس ہوا کہ اس نے دوستی کی اصل قدر نہیں جانی اس نے علی کی محنت کو کم سمجھا وہ علی کے پاس آیا اس کی آنکھوں میں شرمندگی تھی اور دل میں سچائی اس نے مان لیا کہ غرور نے اسے اندھا کر دیا تھا
سچی دوستی کی پہچان
علی نے زید کو معاف کر دیا اس نے بتایا کہ اصل کامیابی ایک دوسرے کا ساتھ اور سچائی ہے دوستی میں مقابلہ نہیں بلکہ حوصلہ ہونا چاہیے اس دن زید نے دل سے وعدہ کیا کہ وہ خود کو بدل لے گا
بدلا ہوا انسان
وقت کے ساتھ زید واقعی بدل گیا اس نے محنت اور ایمانداری کو اپنا راستہ بنایا اس کی دوستی پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گئی علی اور زید کی کہانی لوگوں کے لیے مثال بن گئی کہ سچی دوستی انسان کو بہتر بناتی ہے
سبق
سچی محنت ایمانداری اور دوستوں کی قدر ہی اصل کامیابی ہے
Bachpan Ki Be Loas Dosti
Ali aur Zaid bachpan ke dost thay dono aik hi mohallay mein palay barhay thay subha saath khelna shaam ko khawab dekhna unki aadat thi Ali saada dil aur mehnati tha jab ke Zaid tez zehan magar ghuroor ka shikar tha Ali hamesha dosti nibhaata raha log unki misaal dete thay magar waqt ne dheere dheere rang badalna shuru kar diya
Khawab Aur Muqable Ka Faisla
Shehar mein aik bara muqabla hua Ali ne isay seekhnay ka moka samjha jab ke Zaid ne apni bartri ka zariya dono ne saath hissa liya magar niyat mukhtalif thi yahin se farq paida hona shuru hua
Mehnat Aur Ghuroor Ka Farq
Ali din raat mehnat karta raha Zaid apni aqal par bharosa karta raha Ali sachai par chala Zaid asaan raaston par Ali ne samjhaya magar Zaid ne na suna
Muqable Ka Din
Muqable ke din Ali pur sakoon tha Zaid ghuroor mein tha nateeja aaya to Ali jeet gaya Zaid ko apni ghalti ka ehsaas hua
Ehsaas Aur Nadamat
Zaid ko apni kamzori samajh aa gayi us ne Ali se maafi maangi aur sachai ko tasleem kiya
Sachi Dosti Ki Pehchan
Ali ne dosti ka haath barqarar rakha us ne bataya ke jeet dosti aur imandari mein hoti hai
Badla Hua Insaan
Zaid ne zindagi ka rukh badal liya dono ki dosti misaal ban gayi
Sabak
Sachi mehnat aur dosti hi asal kamyabi hai


