گڈو اور اس کا کارٹون بیگ

Zaman Shahid Bajwa
Zaman Shahid Bajwa - Story Writer
19 Min Read

گڈو کی شرارتیں

گڈو گاؤں کے سب سے شرارتی بچے کے طور پر مشہور تھا اس کی شرارتیں اور مذاق سب کے لیے حیران کن ہوتے تھے لوگ اکثر اسے “کارٹون گڈو” کہہ کر پکارا کرتے کیونکہ اس کی حرکتیں بالکل کارٹون کے کردار جیسی لگتی تھیں گڈو کی شرارتیں صرف دوستوں کے ساتھ محدود نہیں تھیں بلکہ وہ پورے گاؤں میں اپنی ہنسی اور مذاق کے لیے مشہور تھا ہر کوئی اسے دیکھ کر مسکرا دیتا تھا چاہے وہ چھوٹا بچہ ہو یا بڑا گڈو کی یہ خصوصیت اس کے دوستوں کو بہت پسند تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ گڈو کے ساتھ کبھی بوریت نہیں ہوتی. اس کے دوست اکثر گڈو کے پیچھے چھپ کر اس کی شرارتیں دیکھتے اور ہنستے رہتے گڈو کو خود بھی اپنی شرارتوں پر بہت فخر تھا اور وہ ہمیشہ نئی نئی حرکتیں کرنے کے لیے تیار رہتا تھا چاہے وہ اسکول میں ہو یا گاؤں کی گلیوں میں وہ سب کچھ مزاحیہ اور دلچسپ طریقے سے کرتا اور لوگ اس کی ان حرکتوں کو دیکھ کر کبھی ناراض نہیں ہوتے کیونکہ وہ سب کچھ مزہ اور خوشی کے لیے کرتا تھا گڈو کی یہ مزاحیہ فطرت اسے باقی بچوں سے الگ کرتی تھی اور اس کی شخصیت میں ایک خاص دلکشی پیدا کرتی تھی گڈو کا دن عام بچوں کی طرح نہیں گزرتا تھا بلکہ ہر دن اس کے لیے ایک نئی مزاحیہ کہانی اور مذاق لے کر آتا تھا وہ اپنی شرارتوں کے لیے ہمیشہ نیا سامان تلاش کرتا اور اس کی شرارتیں کبھی بھی ایک جیسی نہیں ہوتیں گڈو کی زندگی ایک مسلسل مزاحیہ کارٹون کی طرح تھی جس میں ہر دن نئے حادثات اور نئی خوشیاں آتی رہتی تھیں


جادوئی بیگ کی دریافت

ایک دن گڈو بازار گیا اور اچانک اس کی نظر ایک پرانے بیگ پر پڑی یہ بیگ عام سا لگتا تھا مگر اس میں ایک عجیب سی چمک اور جادوئی کشش تھی گڈو نے فوراً بیگ اٹھایا اور اسے کھولا جیسے ہی اس نے بیگ کھولا اسے اندر سے مختلف چیزیں نکلتی نظر آئیں یہ چیزیں عام نہیں بلکہ جادوئی اور کارٹون کی دنیا سے آئی لگتی تھیں سب سے پہلے اس کی نظر ایک راکٹ نما چپل پر پڑی جو پہنتے ہی اسے ہوا میں اڑا سکتی تھی اس نے فوراً چپل پہن لی اور دیکھ کر حیران رہ گیا کہ واقعی وہ اُڑنے لگی. بیگ کے اندر ایک اور چیز تھی ایک پنکھا نما ٹوپی جو گھوم کر بارش پیدا کر سکتی تھی یہ دیکھ کر گڈو کی حیرت اور خوشی دوگنی ہو گئی اس نے ٹوپی اُٹھائی اور اسے سراہا اور سوچا کہ یہ سب گاؤں کے لوگوں کے لیے کتنی مزیدار اور حیرت انگیز تجربات لے آئے گا گڈو نے بیگ کے اندر ایک چھوٹا سا بندر بھی دیکھا جو باتیں کر سکتا تھا یہ سب چیزیں دیکھ کر گڈو کی آنکھیں خوشی سے چمکنے لگیں اور اس نے فیصلہ کیا کہ وہ آج سے پورے گاؤں میں اپنے جادوئی بیگ کے ساتھ مزاحیہ اور حیران کن شو پیش کرے گا. گڈو نے بیگ کے ہر آئٹم کو بڑی احتیاط سے دیکھا اور ہر ایک چیز کو آزمانے کے لیے بے تاب ہو گیا وہ جانتا تھا کہ یہ بیگ اس کے لیے صرف مزاحیہ شرارتیں نہیں بلکہ گاؤں کے ہر بچے اور بڑے کے لیے خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے اس نے سوچا کہ آج سے گاؤں والے کبھی نہیں بھولیں گے کہ کارٹون گڈو نے ان کے لیے کیا کچھ تیار کیا ہے


راکٹ چپل کا پہلا تجربہ

گڈو نے سب سے پہلے راکٹ چپل پہننے کا فیصلہ کیا جیسے ہی اس نے چپل پہنی وہ فوراً اُڑنے لگی گڈو ہوا میں بلند ہوا اور گاؤں کی چھتوں کے اوپر سے گزرنے لگا اسکول کے اوپر سے گزرتے وقت ماسٹر صاحب نے دیکھا اور فوراً چیخ کر کہا گڈو تو پھر نئی ناٹکی لے آیا ہے گڈو نے ہنس کر جواب دیا سر یہ ناٹکی نہیں بلکہ جادوئی چپل ہے جو مجھے ہوا میں اُڑنے دیتی ہے ماسٹر صاحب کی آنکھیں حیرت سے کھلی کی کھلی رہ گئیں جبکہ بچے نیچے سے اسے دیکھ کر زور زور سے ہنسنے لگے. گڈو نے راکٹ چپل کے ساتھ اسکول کے صحن میں چھلانگیں لگائیں اور ہوا میں مختلف حرکات کیں بچے اور بڑے سب حیرت میں مبتلا تھے گڈو کی یہ حرکتیں واقعی کسی کارٹون فلم سے کم نہیں لگ رہی تھیں وہ ہر حرکت کے ساتھ مزاحیہ انداز میں باتیں کرتا اور سب کو ہنسی سے لوٹ پوٹ کر دیتا گڈو کی ہنسی اور حرکتوں نے پورے اسکول کو ایک خوشی اور مزاحیہ ماحول میں بدل دیا اور سب بچے اور استاد اس کے جادوئی کارنامے دیکھ کر محظوظ ہو رہے تھے


جادوئی ٹوپی کی بارش

راکٹ چپل کے تجربے کے بعد گڈو نے جادوئی ٹوپی پہننے کا فیصلہ کیا جیسے ہی اس نے ٹوپی پہنی وہ گھومنے لگی اور اچانک اسکول کے اندر بارش ہونے لگی بچے حیرت سے دیکھتے رہ گئے لیکن جلد ہی وہ اس بارش کا مزہ لینے لگے گڈو کے مذاق اور شرارتوں نے اسکول کے ہر بچے کے چہرے پر خوشی اور مسکراہٹیں بکھیر دیں ہر کوئی بارش میں ناچنے اور کھیلنے لگا ماسٹر صاحب بھی حیرت اور تھوڑی سی ناراضگی کے ساتھ بچے دیکھ کر مسکرا رہے تھے. ٹوپی کے ساتھ گڈو نے مختلف مزاحیہ تجربات کیے وہ چھت سے چھوٹے چھوٹے پانی کے قطرے گرا رہا تھا اور بچوں کے اوپر بارش کے چھوٹے چھوٹے گولے پھینک رہا تھا بچے خوشی سے چیخ رہے تھے اور ہنس ہنس کر خوش ہو رہے تھے گڈو نے ٹوپی کی مدد سے پورے اسکول کو ایک چھوٹے جادوئی کارٹون ملک میں بدل دیا اور سب بچے اس کے ساتھ کھیلنے اور ہنسنے لگے


بات کرنے والا بندر

سب سے مزے کا اور دلچسپ حصہ وہ تھا جب گڈو نے بیگ کا چھوٹا سا بندر نکالا یہ بندر باتیں کر سکتا تھا اور سب کو حیران کر رہا تھا گڈو نے بندر کو ماسٹر صاحب کے قریب لے کر جا کر کہا دیکھو سر یہ بندر آپ سے بات کرنا چاہتا ہے بندر فوراً ماسٹر صاحب کے کندھے پر چڑھ گیا اور بولا سر آپ ہوم ورک خود کریں بچوں کو کیوں دیتے ہیں بچے اس بات پر زور زور سے ہنسنے لگے ماسٹر صاحب کی آنکھیں حیرت اور مسکراہٹ سے بھر گئیں وہ سوچنے لگے کہ واقعی یہ سب جادوئی اور دلچسپ ہے. بندر نے گڈو کے ساتھ مل کر اور بھی مزاحیہ حرکتیں کیں وہ بچوں کے اوپر چھوٹے چھوٹے دانے پھینکتا اور ہنس ہنس کر شرارتیں کرتا گڈو اور بندر کی یہ جوڑی پورے گاؤں کے بچوں کے لیے کسی کارٹون شو سے کم نہیں تھی سب لوگ اس خوشی اور مزاحیہ ماحول کو دیکھ کر حیرت اور خوشی میں مبتلا ہو گئے اور گڈو کے جادوئی بیگ کی کہانی گاؤں میں مشہور ہو گئی


پورے گاؤں میں ہنسی کا سماں

گڈو کے جادوئی بیگ اور اس کی شرارتوں نے پورے گاؤں کو خوشیوں اور ہنسی سے بھر دیا لوگ گڈو کے کارٹون بیگ کی کہانی سن کر ہر روز اس کے نئے تجربات کے منتظر رہنے لگے ہر کوئی جانتا تھا کہ کارٹون گڈو کچھ نہ کچھ نیا اور مزیدار کرنے والا ہے بچے اور بڑے سب اس کے مذاق اور شرارتوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے گڈو نے محسوس کیا کہ وہ اپنی شرارتوں اور مزاحیہ حرکتوں سے صرف خود خوش نہیں ہو رہا بلکہ پورے گاؤں کو خوشی دے رہا ہے .گڈو نے ہر روز نئے نئے تجربات کیے اس کے جادوئی بیگ کے آئٹمز نے ہر دن کو دلچسپ اور مزاحیہ بنا دیا ہر کوئی اس کے جادوئی کارناموں کو دیکھ کر حیرت میں مبتلا ہوتا اور ہنس ہنس کر خوش ہوتا گڈو کی شرارتیں اور مزاحیہ حرکتیں پورے گاؤں میں ایک مثال بن گئی لوگ کہتے تھے کہ گڈو کے بغیر گاؤں کی زندگی کچھ ادھوری سی لگتی ہے اور ہر کوئی کارٹون گڈو کے نئے مذاق اور جادوئی تجربات کے منتظر رہتا


خوشی اور سبق

گڈو کے جادوئی بیگ نے یہ سکھایا کہ زندگی میں تھوڑی سی مستی اور ہنسی سب کے لیے خوشی لا سکتی ہے مزاح اور مذاق صرف تفریح کے لیے نہیں بلکہ یہ لوگوں کو قریب لاتا ہے اور ہر دل میں خوشی پیدا کرتا ہے گڈو کی شرارتیں اور اس کے جادوئی کارنامے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ زندگی میں مزاحیہ اور خوش مزاج رویہ اختیار کرنے سے ہر لمحہ دلچسپ اور یادگار بن سکتا ہے


Guddu Ki Shararatain

Guddu gaon ke sab se shararti bachay ke tor par mashhoor tha uski shararatain aur mazaq sab ke liye hairat angez hotay they log aksar usay Cartoon Guddu keh kar pukarte kyun ke uski harkatein bilkul cartoon ke kirdar jaisi lagti theen Guddu ki shararatain sirf doston ke sath mehdood nahi thin balkay wo poore gaon me apni hansi aur mazaq ke liye mashhoor tha har koi usay dekh kar muskara deta tha chahe wo chhota bacha ho ya bara Guddu ki ye khasoosiyat uske doston ko bohot pasand thi kyun ke wo jaante they ke Guddu ke sath kabhi bore nahi hota. Uske dost aksar Guddu ke peeche chhup kar uski shararatain dekhte aur hanste rehte Guddu ko khud bhi apni shararat par bohot fakhar tha aur wo hamesha nai nai harkatein karne ke liye tayyar rehta chahe wo school me ho ya gaon ki galiyon me wo sab kuch mazaahiya aur dilchasp tareeqay se karta aur log uski in harkaton ko dekh kar kabhi naraz nahi hotay kyun ke wo sab kuch maza aur khushi ke liye karta tha Guddu ki ye mazaahiya fitrat use baaqi bachon se alag karti thi aur uski shaksiyat me aik khaas dilkashi paida karti thi. Guddu ka din aam bachon ki tarah nahi guzarta tha balkay har din uske liye aik nai mazaahiya kahani aur mazaq le kar aata tha wo apni shararaton ke liye hamesha naya samaan talash karta aur uski shararatain kabhi bhi aik jaisi nahi hotin Guddu ki zindagi aik musalsal mazaahiya cartoon ki tarah thi jisme har din naye haadsat aur nai khushiyan aati rehti thin


Jadooee Bag Ki Daryaft

Aik din Guddu bazar gaya aur achanak uski nazar aik puranay bag par pari ye bag aam sa lagta tha magar isme aik ajeeb si chamak aur jadooee kashish thi Guddu ne foran bag uthaya aur ise khola jaise hi usne bag khola use andar se mukhtalif cheezen nikalti nazar aayin ye cheezen aam nahi balkay jadooee aur cartoon ki duniya se aayi lagti thin Sab se pehle uski nazar aik rocket nama chappal par pari jo pehnte hi use hawa me ura sakti thi usne foran chappal pehn li aur dekh kar hairan reh gaya ke waqai wo ur rahi thi. Bag ke andar aik aur cheez thi aik pankha nama topi jo ghoom kar barish peda kar sakti thi ye dekh kar Guddu ki hairat aur khushi dougni ho gayi usne topi uthai aur use saraha aur socha ke ye sab gaon ke logon ke liye kitni mazedar aur hairat angez tajurabat le aaye ga Guddu ne bag ke andar aik chhota sa bandar bhi dekha jo baatein kar sakta tha ye sab cheezen dekh kar Guddu ki aankhein khushi se chamakne lagin aur usne faisla kiya ke wo aaj se poore gaon me apne jadooee bag ke sath mazaahiya aur hairat angez show pesh kare ga. Guddu ne bag ke har item ko bari ehtiyaat se dekha aur har ek cheez ko azmane ke liye be tab ho gaya wo jaanta tha ke ye bag uske liye sirf mazaahiya shararatain nahi balkay gaon ke har bache aur baray ke liye khushi ka zariya ban sakta hai usne socha ke aaj se gaon wale kabhi nahi bhoolenge ke Cartoon Guddu ne unke liye kya kuch tayar kiya hai


Rocket Chappal Ka Pehla Tajurba

Guddu ne sab se pehle rocket chappal pehnay ka faisla kiya jaise hi usne chappal pehni wo foran ur rahi thi Guddu hawa me buland hua aur gaon ki chhaton ke upar se guzray school ke upar se guzrtay waqt master sahab ne dekha aur foran cheekh kar kaha Guddu tu phir nai natki le aya hai Guddu ne hans kar jawab diya Sir ye natki nahi balkay jadooee chappal hai jo mujhe hawa me urne deti hai Master sahab ki aankhein hairat se khuli ki khuli reh gayin jabke bachay neeche se use dekh kar zor zor se hanste lagay. Guddu ne rocket chappal ke sath school ke sahn me chhalangain lagai aur hawa me mukhtalif harkat kiin bachay aur baray sab hairat me mubtala they Guddu ki ye harkatein waqai kisi cartoon film se kam nahi lag rahi thin wo har harkat ke sath mazaahiya andaaz me baatein karta aur sab ko hansi se lut pot kar deta Guddu ki hansi aur harkaton ne poore school ko aik khushi aur mazaahiya mahaul me badal diya aur sab bachay aur ustaad uske jadooee karnamay dekh kar mehzoz ho rahe they


Jadooee Topi Ki Barish

Rocket chappal ke tajurbe ke baad Guddu ne jadooee topi pehnay ka faisla kiya jaise hi usne topi pehni wo ghoomne lagi aur achanak school ke andar barish hone lagi bachay hairat se dekhte reh gaye lekin jald hi wo is barish ka maza lene lage Guddu ke mazaq aur shararaton ne school ke har bache ke chehre par khushi aur muskurain bikhair di har koi barish me naachne aur khelne laga Master sahab bhi hairat aur thodi si narazgi ke sath bache dekh kar muskra rahe they. Topi ke sath Guddu ne mukhtalif mazaahiya tajurbaat kiye wo chhat se chhote chhote pani ke qatre gira raha tha aur bachon ke upar barish ke chhote chhote golay phenk raha tha bachay khushi se cheekh rahe they aur hans hans kar khush ho rahe they Guddu ne topi ki madad se poore school ko aik chhote jadooee cartoon mulk me badal diya aur sab bachay uske sath khelne aur hansne lage


Baat Karne Wala Bandar

Sab se mazae ka aur dilchasp hissa wo tha jab Guddu ne bag ka chhota sa bandar nikala ye bandar baatein kar sakta tha aur sab ko hairan kar raha tha Guddu ne bandar ko master sahab ke qareeb le kar ja kar kaha Dekho sir ye bandar aap se baat karna chahta hai Bandar foran master sahab ke kandhe par chadh gaya aur bola Sir aap homework khud karein bachon ko kyu dete hain bachay is baat par zor zor se hanste lagay Master sahab ki aankhein hairat aur muskurahat se bhar gayin wo sochne lagay ke waqai ye sab jadooee aur dilchasp hai. Bandar ne Guddu ke sath mil kar aur bhi mazaahiya harkatein kiin wo bachon ke upar chhote chhote dane phenkta aur hans hans kar shararatain karta Guddu aur bandar ki ye jodi poore gaon ke bachon ke liye kisi cartoon show se khushi ke sath jeena chahiye — thodi si masti zindagi ko cartoon bana deti hai!

Share This Article
Story Writer
Follow:
Explore kids’ stories written by Zaman Shahid Bajwa at UrduKahani.org. Read unique, moral, and entertaining tales for children that inspire learning and imagination.