جادوئی بستی اور سنہری گھنٹی

Zaman Shahid Bajwa
Zaman Shahid Bajwa - Story Writer
9 Min Read

روشنی کی بستی کا تعارف

پہاڑوں کے بیچ ایک نرم سی وادی میں روشنی کی بستی آباد تھی یہ بستی چھوٹی تھی مگر دلوں میں بہت وسعت رکھتی تھی یہاں کے لوگ سادہ مزاج تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ محبت سے رہتے تھے صبح کے وقت سورج کی کرنیں پہاڑوں سے اتر کر گھروں پر پڑتیں تو ایسا لگتا جیسے پوری بستی سونے میں نہا گئی ہو بچے ہنستے کھیلتے تھے بزرگ دعائیں دیتے تھے اور ہر چہرے پر سکون نظر آتا تھا مگر اس خوبصورتی کے پیچھے ایک خاموش راز چھپا ہوا تھا بستی کے بیچوں بیچ ایک پرانا مینار کھڑا تھا جو وقت کے بوجھ سے تھکا ہوا لگتا تھا اس مینار کے اندر ایک سنہری گھنٹی لٹکی تھی جس کے بارے میں سب جانتے تھے مگر کوئی اس کے قریب نہ جاتا تھا کہا جاتا تھا کہ یہ گھنٹی بستی کی حفاظت کرتی ہے اور جب بجتی ہے تو روشنی کبھی مدھم نہیں ہوتی لوگ اس راز کو مانتے تھے مگر ڈرتے بھی تھے اس لیے خاموشی کو ہی بہتر سمجھتے تھے بستی کی ہوا میں امید اور خوف دونوں ساتھ ساتھ بہتے تھے


سنہری گھنٹی کا راز

سنہری گھنٹی عام گھنٹی نہیں تھی بزرگوں کے مطابق یہ بستی کے قیام کے وقت ہی بنائی گئی تھی اور اس میں نیکی کی طاقت بھری گئی تھی جب کبھی بستی پر مشکل آتی گھنٹی بجتی اور اندھیرا خود ہی ہٹ جاتا تھا مگر وقت کے ساتھ لوگوں کے دلوں میں خوف بڑھتا گیا انہوں نے گھنٹی کو چھونا چھوڑ دیا اور راز کو کہانی بنا کر بچوں کو سناتے رہے گھنٹی خاموش رہی مگر اس کی موجودگی سب کو محسوس ہوتی تھی رات کے وقت مینار کے پاس ہلکی سی روشنی دکھائی دیتی جس سے لوگوں کو یاد آتا کہ امید ابھی زندہ ہے مگر ہمت کسی میں نہ تھی گھنٹی کا راز صرف یہی تھا کہ وہ دلوں کی سچائی کو پہچانتی تھی مگر یہ بات لوگ بھول چکے تھے


انوشہ کی معصوم دنیا

اسی بستی میں انوشہ نام کی ایک ننھی بچی رہتی تھی اس کی آنکھوں میں سوال تھے اور دل میں محبت وہ دوسروں سے مختلف تھی کیونکہ وہ ڈر سے زیادہ تجسس رکھتی تھی انوشہ روز مینار کو دیکھتی اور سوچتی کہ اگر گھنٹی روشنی دیتی ہے تو پھر خاموش کیوں ہے وہ بزرگوں کی باتیں سنتی مگر دل میں ایک نرمی سی رہتی جو اسے آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی انوشہ کا ماننا تھا کہ سچائی سے بڑا کوئی جادو نہیں وہ بستی کے لوگوں کی مدد کرتی اور ہر کسی کے لیے اچھا سوچتی تھی اسی لیے اس کا دل مضبوط تھا اس کی معصوم دنیا میں ڈر کم اور امید زیادہ تھی


اندھیرے کا سایہ

ایک دن بستی پر عجیب سا اندھیرا چھا گیا بادل گھنے ہو گئے ہوا رک گئی اور ہنسی غائب ہو گئی لوگوں کے دل کانپنے لگے انہیں لگا کہ شاید گھنٹی کا جادو ختم ہو چکا ہے بچے خاموش ہو گئے اور بزرگ فکر میں ڈوب گئے یہ وہ لمحہ تھا جب سب کو اپنی خاموشی کا احساس ہوا مگر کوئی قدم اٹھانے کو تیار نہ تھا خوف نے سب کو جکڑ لیا تھا مگر اسی اندھیرے میں انوشہ کی آنکھوں میں روشنی جاگ اٹھی اس نے محسوس کیا کہ اگر وہ بھی خاموش رہی تو بستی ہمیشہ اندھیرے میں رہے گی


ہمت کا فیصلہ

انوشہ نے دل میں مضبوط ارادہ کیا اس نے لوگوں کی باتیں سنیں مگر مسکرائی کیونکہ اسے یقین تھا کہ سچائی کبھی نقصان نہیں دیتی اس نے سوچا کہ اگر نیت صاف ہو تو راستہ خود بن جاتا ہے رات کے وقت جب سب سو گئے انوشہ آہستہ آہستہ مینار کی طرف بڑھی اس کے قدم کانپ رہے تھے مگر دل مضبوط تھا وہ ہر زینہ چڑھتے ہوئے اپنی ہمت کو یاد کرتی رہی اس کے لیے یہ صرف گھنٹی نہیں تھی بلکہ بستی کی خوشی کا سوال تھا


سنہری روشنی کا لمحہ

مینار کے اوپر پہنچ کر انوشہ نے گھنٹی کو دیکھا اس کی چمک دل کو سکون دے رہی تھی اس نے آنکھیں بند کیں اور دل میں دعا کی پھر آہستہ سے دھاگہ کھینچا جیسے ہی گھنٹی بجی پورا آسمان روشن ہو گیا پہاڑ جگمگا اٹھے اور بستی میں خوشی لوٹ آئی ایک گہری آواز گونجی جو سب نے سنی اس آواز نے بتایا کہ اصل طاقت دل کی سچائی اور ہمت میں ہے انوشہ روشنی کے بیچ کھڑی مسکرا رہی تھی


روشنی کی بیٹی

لوگ دوڑتے ہوئے آئے اور انوشہ کو دیکھ کر حیران رہ گئے ان کے دلوں سے خوف نکل گیا اور امید جاگ اٹھی انہوں نے سمجھ لیا کہ جادو باہر نہیں اندر ہوتا ہے اس دن کے بعد انوشہ کو روشنی کی بیٹی کہا جانے لگا وہ بستی کے لیے مثال بن گئی اور سب نے سیکھا کہ ہمت اور سچائی سے ہر اندھیرا دور ہو سکتا ہے

سبق

اصل طاقت جادو میں نہیں بلکہ صاف دل اور سچی نیت میں ہوتی ہے

Roshni Ki Basti Ka Taaruf

Paharon ke beech aik naram si wadi mein roshni ki basti abad thi yeh basti choti thi magar dilon mein bohat wusat rakhti thi yahan ke log sada mizaj thay aur aik dosre ke sath mohabbat se rehte thay subah ke waqt suraj ki kirnain paharon se utar kar gharon par parti to aisa lagta jaise poori basti soney mein naha gayi ho bachay hanstay khelte thay buzurg duain detay thay aur har chehra pur sakoon nazar aata tha magar is khoobsurti ke peechay aik khamosh raaz chupa hua tha basti ke beech aik purana minar khara tha jo waqt ke bojh se thaka hua lagta tha is minar ke andar aik sunehri ghanti latki thi jiske baray mein sab jantay thay magar koi qareeb na jata tha


Sunehri Ghanti Ka Raaz

Sunehri ghanti aam ghanti nahi thi buzurgon ke mutabiq yeh basti ke qaim hone ke waqt hi banayi gayi thi jab bhi mushkil aati ghanti bajti aur andhera hat jata tha magar waqt ke sath logon ke dilon mein khauf barhta gaya aur ghanti khamosh hoti chali gayi


Anosha Ki Masoom Duniya

Anosha aik choti si bachi thi jiske dil mein mohabbat aur aankhon mein sawal thay woh har roz minar ko dekhti aur sochti ke roshni kyun khamosh hai uska dil saaf tha aur himmat uski pehchan thi


Andheray Ka Saya

Aik din basti par gehra andhera chha gaya logon ke chehray utar gaye aur khushi gayab ho gayi sab khamosh thay magar Anosha ne umeed nahi chori


Himmat Ka Faisla

Anosha ne faisla kiya ke woh ghanti ko bajaye gi chahe kuch bhi ho uska yaqeen tha ke sachai hamesha jeet ti hai


Sunehri Roshni Ka Lamha

Jab ghanti baji to roshni phail gayi basti phir se jagmaga uthi aur sab ne mehsoos kiya ke asal taqat dil mein hoti hai


Roshni Ki Beti

Anosha roshni ki beti ban gayi aur basti ne seekh liya ke himmat aur sachai se har andhera door hota hai

Sabak

Sachai aur himmat se har mushkil asaan ho jati hai

Share This Article
Story Writer
Follow:
Explore kids’ stories written by Zaman Shahid Bajwa at UrduKahani.org. Read unique, moral, and entertaining tales for children that inspire learning and imagination.