کالی حویلی کا خاموش خوف
کالی حویلی گاؤں کے کنارے کھڑی ایک ایسی عمارت تھی جو دن کے وقت عام سی لگتی مگر سورج ڈھلتے ہی اس کے گرد خوف کی چادر تان لی جاتی حویلی کی دیواروں پر چڑھے درختوں کے سائے ایسے محسوس ہوتے جیسے کسی نے کالے ہاتھ پھیلا رکھے ہوں ہوا کے چلنے پر درختوں کی سرسراہٹ دل کے اندر اترتی چلی جاتی گاؤں کے بوڑھے کہتے تھے کہ یہ جگہ کبھی خوشیوں سے بھری تھی مگر ایک ظلم نے سب کچھ بدل دیا برسوں پہلے یہاں ایک عورت رہتی تھی جو خاموشی سے ہر درد سہتی رہی جب اس پر ہونے والا ظلم حد سے بڑھا تو ایک رات اس کی جان چلی گئی مگر اس کی روح اس حویلی میں قید ہو گئی وقت کے ساتھ اس کہانی نے خوفناک شکل اختیار کر لی اور گاؤں والے شام کے بعد اس راستے سے گزرنے سے بھی ڈرتے تھے بچوں کو ڈرایا جاتا کہ اگر ضد کرو گے تو چڑیل آ جائے گی یوں کالی حویلی خوف کی علامت بن گئی
خوفناک کہانیوں کی جڑ
لوگ کہتے تھے کہ اس عورت کے آنسو آج بھی دیواروں میں بسے ہیں رات کے سناٹے میں اس کی سسکیاں سنائی دیتی ہیں کچھ کا کہنا تھا کہ انہوں نے سفید کپڑوں میں ایک سایہ دیکھا جو کھڑکیوں کے پیچھے ہلتا تھا بزرگوں کے مطابق وہ عورت معصوم تھی مگر اس کے ساتھ ہونے والا سلوک ظالمانہ تھا اسی لیے اس کی روح کو سکون نہ ملا اور وہ چڑیل بن گئی یہ باتیں نسل در نسل چلتی رہیں اور ہر آنے والا ان میں کچھ نہ کچھ اضافہ کرتا گیا یوں خوف ایک حقیقت بن گیا گاؤں کے نوجوان ان باتوں کو وہم سمجھتے تھے مگر دل کے کسی کونے میں ڈر پھر بھی موجود تھا کالی حویلی کا نام آتے ہی ماحول بدل جاتا آوازیں دھیمی ہو جاتیں اور نظریں جھک جاتیں
چار دوستوں کا فیصلہ
ایک دن چار دوست عارف سلیم بلال اور نعیم اکٹھے بیٹھے باتیں کر رہے تھے باتوں باتوں میں کالی حویلی کا ذکر آیا بلال نے ہنستے ہوئے کہا کہ یہ سب کہانیاں جھوٹ ہیں عارف نے کہا کہ سچ جاننے کا ایک ہی طریقہ ہے وہاں جا کر دیکھنا سلیم کو ڈر لگ رہا تھا مگر وہ پیچھے ہٹنا نہیں چاہتا تھا نعیم خاموش تھا مگر اس کے دل میں بھی تجسس تھا آخر کار انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ رات کو حویلی جائیں گے تاکہ خود دیکھ سکیں کہ حقیقت کیا ہے اس فیصلے کے ساتھ ہی ان کے دل تیز دھڑکنے لگے مگر ضد نے خوف پر قابو پا لیا
حویلی کے اندر پہلا قدم
رات کے اندھیرے میں چاروں دوست ٹارچ لے کر حویلی کے دروازے تک پہنچے دروازہ چرچراتا ہوا کھلا اندر ایک بوسیدہ بو پھیلی ہوئی تھی دیواروں پر جالے تھے اور فرش ٹوٹا ہوا تھا ہر قدم کے ساتھ دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی مرکزی ہال میں ایک بڑی تصویر لگی تھی جس میں ایک عورت کی آنکھیں عجیب انداز میں گھور رہی تھیں بلال نے مذاق کیا مگر عارف نے محسوس کیا کہ آنکھوں کا رنگ بدل رہا ہے اسی لمحے ہوا تیز ہو گئی اور ایک کھڑکی زور سے بند ہوئی سلیم کے منہ سے بے اختیار نکلا کہ ہمیں واپس جانا چاہیے مگر کوئی پیچھے نہ ہٹا
آئینے کا راز
اوپر کے کمرے میں ایک بڑا آئینہ رکھا تھا جب ٹارچ کی روشنی اس پر پڑی تو چاروں نے اپنی پرچھائیاں دیکھیں مگر اچانک ایک اور سایہ نظر آیا وہ سایہ عورت کا تھا جس کے بال لمبے اور آنکھیں جلتی ہوئی لگ رہی تھیں عارف نے پیچھے مڑ کر دیکھا مگر کچھ نہ تھا اچانک وہ سایہ آئینے سے باہر آ گیا سفید لباس لمبے ناخن اور خوفناک مسکراہٹ کے ساتھ اس نے کہا کہ تم نے مجھے جگا دیا ہے کمرہ سرد ہو گیا اور دیواریں کانپنے لگیں
تعویز اور چیخ
بلال خوف سے گر پڑا چڑیل اس کی طرف بڑھی نعیم نے فوراً اپنی جیب سے تعویز نکالا اور دعائیں پڑھنے لگا تعویز کی روشنی پھیلی اور چڑیل چیخنے لگی اس کی آواز سے پورا مکان لرز اٹھا شیشے ٹوٹنے لگے اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا کچھ لمحوں بعد جب روشنی لوٹی تو چڑیل غائب تھی مگر دیوار پر خون سے لکھا تھا کہ یہ میرا گھر ہے میں واپس آؤں گی چاروں دوست بھاگتے ہوئے حویلی سے نکلے اور پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا
خوف کی واپسی اور سبق
اس رات کے بعد گاؤں میں خوف اور بڑھ گیا دوستوں نے قسم کھائی کہ دوبارہ وہاں نہیں جائیں گے آج بھی لوگ کہتے ہیں کہ رات کو چیخیں سنائی دیتی ہیں اور چڑیل اپنے اگلے شکار کی تلاش میں ہے
سبق یہ ہے کہ ظلم کا انجام ہمیشہ خوف بن کر لوٹتا ہے اور کچھ جگہیں صرف دیکھنے سے نہیں بلکہ سمجھنے سے بچائی جاتی ہیں
Kaali Haveli Ki Chudail
Kaali Haveli Ka Khamosh Khauf
Kaali haveli gaon ke kinare khari aik aisi imarat thi jo din ke waqt aam si lagti magar sooraj dhalte hi us ke gird khauf ki chadar tan jati darakhton ke saye deewaron par phail jate aur hawa ki sarsarahat dil ke andar utarti chali jati buzurg kehte thay ke yahan kabhi khushiyan basti thin magar aik zulm ne sab kuch badal diya aik aurat jo chup chaap dard sehti rahi jab had se zyada zulm hua to us ki jaan chali gayi magar rooh qaid ho gayi
Khaufnaak Kahaniyon Ki Jar
Log kehte thay ke us aurat ke aansu aaj bhi deewaron mein hain raat ki khamoshi mein us ki siskiyan sunai deti hain safed kapron mein aik saya khirkiyon ke peechay hiltay dekha gaya yeh baatein naslon tak chaltin rahin aur kaali haveli khauf ki nishani ban gayi
Chaar Doston Ka Faisla
Aik din Aarif Saleem Bilal aur Naim ne faisla kiya ke woh sach dekh kar rahain ge dil mein dar tha magar zid zyada thi raat ko torch le kar woh haveli ki taraf chal diye
Haveli Ke Andar Pehla Qadam
Darwaza khula to badbu aur andhera tha jale aur toota farsh tha aik tasveer par aurat ki aankhen ghoor rahi thin hawa tez hui aur khirki band ho gayi Saleem ghabra gaya magar koi na ruka
Aaine Ka Raaz
Upar kamray mein aaina tha jahan paanchwan saya nazar aaya woh saya aurat ka tha jo aaine se bahar aa gayi us ki muskurahat khaufnaak thi
Taweez Aur Cheekh
Bilal gir gaya Naim ne taweez nikala dua parhi roshni phaili aur churel cheekhne lagi phir achanak sab kuch khatam ho gaya
Khauf Ki Wapsi Aur Sabaq
Us raat ke baad gaon aur zyada dar gaya
Sabaq yeh hai ke zulm kabhi khamosh nahi rehta aur sach se bhagna khauf ko janam deta haieti hain.


