سچی دوستی کا امتحان

Zaman Shahid Bajwa
Zaman Shahid Bajwa - Story Writer
12 Min Read

بچپن کی دوستی اور گاؤں کی زندگی

احمد اور بلال ایک سادہ سے گاؤں میں رہتے تھے جہاں کچے راستے سبز کھیتوں سے گزرتے تھے اور صبح کی ہوا میں مٹی کی خوشبو بسی رہتی تھی دونوں بچپن سے اکٹھے تھے ایک ہی استاد سے پڑھتے ایک ہی کنویں سے پانی پیتے اور ایک ہی میدان میں کھیلتے تھے گاؤں کے بزرگ اکثر ان کی مثال دیتے کہ اگر دوستی دیکھنی ہو تو ان دونوں کو دیکھ لو احمد باتوں میں بہت مضبوط تھا وہ بڑے بڑے وعدے کرتا اور مستقبل کے خواب بناتا بلال کم بولتا مگر دل کا صاف تھا وہ بات کم اور عمل زیادہ پر یقین رکھتا تھا دونوں کی دوستی ہنسی خوشی کے دنوں میں بہت مضبوط دکھائی دیتی تھی وہ ایک دوسرے کے بغیر کسی کام کا تصور نہیں کرتے تھے جب احمد کسی مشکل میں ہوتا تو بلال خاموشی سے ساتھ کھڑا ہو جاتا اور جب بلال تھک جاتا تو احمد اس کو حوصلہ دیتا مگر یہ سب آسان دنوں کی بات تھی گاؤں کی زندگی پرسکون تھی اس لیے کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ اصل امتحان ابھی باقی ہے وقت کے ساتھ ساتھ انسان کی اصل پہچان سامنے آتی ہے اور دوستی بھی خود کو آزمائش میں ظاہر کرتی ہے گاؤں کے لوگ کہتے تھے کہ دوست وہی جو مشکل میں ساتھ دے مگر یہ بات اکثر کہانیوں میں ہی سنی جاتی تھی احمد اور بلال کے لیے یہ محض ایک جملہ تھا جس کی گہرائی کا اندازہ انہیں نہیں تھا اس مرحلے تک دونوں ایک دوسرے کو مکمل سمجھتے تھے اور یہی اعتماد آگے چل کر ایک بڑے سبق کا سبب بننے والا تھا

جنگل کی سیر کا فیصلہ

ایک دن احمد نے تجویز دی کہ کیوں نہ قریبی جنگل کی سیر کی جائے اس جنگل کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں فطرت اپنی پوری خوبصورتی کے ساتھ موجود ہے بلال نے تھوڑی ہچکچاہٹ دکھائی مگر دوستی کی خاطر مان گیا دونوں نے صبح سویرے نکلنے کا فیصلہ کیا کھانے کا تھوڑا سا سامان لیا اور گاؤں کی گلیوں سے گزرتے ہوئے جنگل کی طرف چل پڑے راستے میں وہ مستقبل کی باتیں کرتے رہے احمد بڑے یقین سے کہتا رہا کہ ہم ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے حالات کیسے بھی ہوں بلال مسکرا کر اس کی بات سنتا رہا اس کے دل میں دوستی کی قدر تھی مگر وہ جانتا تھا کہ اصل بات مشکل وقت میں سامنے آتی ہے جنگل کے قریب پہنچتے ہی ماحول بدلنے لگا درخت اونچے اور گھنے ہو گئے روشنی کم ہونے لگی مگر احمد کے جوش میں کوئی کمی نہ آئی وہ ہنستا رہا اور بلال کو تسلی دیتا رہا کہ کچھ نہیں ہوگا یہ سب صرف کہانیاں ہیں بلال نے دل میں دعا کی کہ سفر خیر سے گزر جائے یہ سیر دونوں کے لیے ایک یادگار لمحہ بننے والی تھی مگر کسی نے یہ نہیں سوچا تھا کہ یہی فیصلہ ان کی دوستی کو ایک نیا رخ دے دے گا جنگل کی خاموشی میں قدموں کی آواز تیز لگنے لگی اور دل کی دھڑکنیں بھی اس خاموشی کا حصہ بن گئیں

جنگل کا بدلتا ہوا ماحول

جنگل کے اندر داخل ہوتے ہی پرندوں کی آوازیں کم ہو گئیں ہوا میں ٹھنڈک بڑھ گئی اور درختوں کے سائے لمبے ہوتے گئے شروع میں یہ سب حسین لگ رہا تھا مگر آہستہ آہستہ ماحول سنجیدہ ہونے لگا بلال کے دل میں ایک انجانا سا خوف جاگنے لگا احمد نے بھی پہلی بار اردگرد غور سے دیکھا خاموشی گہری ہو رہی تھی اور دور کہیں سے جھاڑیوں کی ہلکی سی حرکت سنائی دی دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا مگر کچھ کہے بغیر آگے بڑھتے رہے اس لمحے دوستی کی آزمائش قریب آ رہی تھی مگر انہیں اس کا احساس نہیں تھا احمد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا مگر اس نے خود کو مضبوط ظاہر کیا بلال نے دل میں حوصلہ جمع کیا اور خود کو سنبھالے رکھا جنگل اب اتنا خاموش تھا کہ اپنی سانسوں کی آواز صاف سنائی دے رہی تھی یہ وہ لمحہ تھا جب انسان اپنے اندر جھانکتا ہے اور اپنی اصل کو پہچانتا ہے فطرت کبھی کبھی انسان کو آئینہ دکھاتی ہے تاکہ وہ خود کو دیکھ سکے احمد اور بلال بھی اسی آئینے کے سامنے کھڑے تھے مگر دونوں کی تصویر ایک جیسی نہیں تھی

ریچھ کا اچانک سامنا

اچانک جھاڑیوں میں زور دار حرکت ہوئی اور ایک بڑا ریچھ سامنے آ گیا اس کی موجودگی نے فضا کو خوف سے بھر دیا احمد کے دل میں خوف غالب آ گیا اس نے ایک لمحہ بھی ضائع نہ کیا اور قریبی درخت پر چڑھ گیا اس وقت اسے صرف اپنی جان دکھائی دے رہی تھی بلال نیچے کھڑا رہ گیا اسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا تھا احمد نے پیچھے مڑ کر بھی نہ دیکھا بلال کے دل میں ایک ٹھنڈا سا احساس پھیل گیا یہ وہ لمحہ تھا جب اسے دوستی کی حقیقت نظر آئی خوف کے عالم میں بھی اس نے حوصلہ نہیں چھوڑا اسے بچپن کی بات یاد آئی کہ ریچھ مردہ انسان کو نقصان نہیں پہنچاتا اس نے فوراً زمین پر لیٹ کر سانس روک لی ریچھ قریب آیا اس کی سانس بلال کے چہرے پر محسوس ہوئی وہ لمحے صدیوں جیسے لگ رہے تھے احمد اوپر درخت پر بیٹھا خاموش تھا ریچھ نے بلال کو سونگھا اور کچھ دیر بعد وہاں سے چلا گیا یہ زندگی اور موت کے بیچ کا سفر تھا جس نے بلال کو اندر سے بدل دیا

خطرہ ٹلنے کے بعد کی گفتگو

جب ریچھ چلا گیا تو جنگل کی خاموشی دوبارہ چھا گئی احمد آہستہ آہستہ درخت سے نیچے اترا اس کے چہرے پر مصنوعی سی مسکراہٹ تھی اس نے ہلکے انداز میں بات کرنے کی کوشش کی مگر بلال کی آنکھوں میں گہری سنجیدگی تھی بلال خاموش کھڑا رہا اس کی خاموشی میں سوال بھی تھا اور جواب بھی احمد نے بات کا رخ بدلنے کی کوشش کی مگر بلال کے دل میں جو بات بیٹھ چکی تھی وہ اب نکلنا چاہتی تھی بلال نے آہستہ مگر واضح انداز میں کہا کہ ایسے دوستوں سے بچنا چاہیے جو مشکل وقت میں ساتھ چھوڑ دیں اس ایک جملے نے احمد کے دل پر گہرا اثر کیا اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا شرمندگی اس کے چہرے سے جھلکنے لگی وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر الفاظ ساتھ نہیں دے رہے تھے جنگل نے آج اسے ایک سبق سکھایا تھا جو کتابوں میں نہیں ملتا

احساس اور فاصلے کی ابتدا

گاؤں واپس آتے ہوئے دونوں خاموش تھے راستہ وہی تھا مگر دل بدل چکے تھے احمد کے دل میں پچھتاوا تھا اور بلال کے دل میں ٹوٹا ہوا اعتماد بلال نے آہستہ آہستہ احمد سے فاصلہ رکھنا شروع کر دیا اس نے سمجھ لیا تھا کہ ہر مسکراہٹ سچی نہیں ہوتی اور ہر وعدہ نبھایا نہیں جاتا احمد نے کئی بار معافی مانگنے کی کوشش کی مگر کچھ زخم وقت مانگتے ہیں بلال نے اسے دشمن نہیں بنایا مگر وہ دوستی پہلے جیسی نہ رہی یہ خاموش فاصلہ ایک مضبوط فیصلہ تھا بلال نے اپنی عزت نفس کو ترجیح دی اور احمد نے زندگی کا ایک اہم سبق سیکھا کہ دوستی صرف باتوں سے نہیں عمل سے ثابت ہوتی ہے

انجام اور سبق

یہ کہانی ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اصل دوستی مشکل وقت میں سامنے آتی ہے جو ساتھ کھڑا رہے وہی سچا دوست ہے

سبق

مشکل وقت میں ساتھ دینے والا ہی حقیقی دوست ہوتا ہے دوست وہی ہے جو مشکل وقت میں ساتھ دے۔


Sachi Dosti Ka Imtihan

Bachpan Ki Dosti Aur Gaon Ki Zindagi

Ahmed aur Bilal aik saada se gaon mein rehte the jahan kachay rastay sabz kheton se guzarte the aur subah ki hawa mein mitti ki khushboo hoti thi dono bachpan se saath the aik hi ustad se parhte aik hi maidan mein khelte aur aik doosre ke dukh sukh mein shaamil rehte the Ahmed baaton ka hero tha jabke Bilal amal ka yaqeen rakhta tha log un ki dosti ki misaal dete the magar asal imtihan abhi baqi tha

Jangal Ki Sair Ka Faisla

Ahmed ne jangal ki sair ka mashwara diya Bilal ne dosti ki khatir haan keh di subah dono nikle raaste bhar baatein hoti raheen Ahmed yaqeen dilata raha ke wo hamesha saath rahega Bilal chup chaap sunta raha jangal qareeb aaya to khamoshi gehri hoti chali gayi

Jangal Ka Badalta Mahaul

Jangal mein dakhil hotay hi parindon ki awaaz kam ho gayi hawa thandi ho gayi aur khauf ka ehsaas barhne laga dono ke dil tez dharkne lage magar wo aage barhte rahe qudrat ne un ke liye aik aaina tayar kar rakha tha

Reech Ka Achanak Saamna

Achanak aik bara reech samne aa gaya Ahmed dar kar darakht par charh gaya Bilal neeche reh gaya us ne zameen par let kar saans rok li reech ne usay soongha aur chala gaya yeh lamha zindagi ka sab se sakht imtihan tha

Khatra Talne Ke Baad Ki Guftagu

Reech ke janay ke baad Ahmed neeche utra aur baat karne ki koshish ki Bilal ne sakhti se kaha ke mushkil waqt mein chhor dene walon se bachna chahiye yeh alfaaz teer ki tarah lage

Ehsaas Aur Faaslay Ki Ibtida

Gaon wapas aate hue dono khamosh the Bilal ne faasla rakh liya Ahmed ko apni ghalti ka ehsaas hua magar bharosa toot chuka tha

Anjaam Aur Sabaq

Yeh kahani batati hai ke asal dosti mushkil waqt mein pehchani jati hai

Sabaq

Mushkil waqt mein saath dene wala hi sacha dost hota hai

Share This Article
Story Writer
Follow:
Explore kids’ stories written by Zaman Shahid Bajwa at UrduKahani.org. Read unique, moral, and entertaining tales for children that inspire learning and imagination.